الزمر

زمر

75 آیاتمکیپارہ 23

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 40

    مَن يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُّقِيمٌ

    کہ کس پر رسوا کرنے واﻻ عذاب آتا ہے[1] اور کس پر دائمی مار اور ہمیشگی کی سزا ہوتی ہے.[2]

    حواشی

    [1] جس سے واضح ہو جائے گا کہ حق پر کون ہے اور باطل پر کون؟ اس سےمراد دنیا کا عذاب ہے جیساکہ جنگ بدر میں ہوا۔ کافروں کےستر آدمی قتل اور ستر ہی آدمی قید ہوئے۔ حتیٰ کہ فتح مکہ کے بعد غلبہ و تمکن بھی مسلمانوں کو حاصل ہو گیا،جس کے بعد کافروں کے لیے سوائے ذلت و رسوائی کے کچھ باقی نہ رہا۔ [2] اس سے مراد عذاب جہنم ہے جس میں کافر ہمیشہ مبتلا رہیں گے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 39 - 40 کی تفسیر

    [39، 40] ﴿قُ٘لْ ﴾ ’’(اے رسول! ان سے) کہہ دیجیے: ﴿یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ ﴾ ’’اے میری قوم! تم اپنی جگہ عمل کیے جاؤ‘‘ یعنی تم اسی حالت میں عمل کرتے رہو جس پر تم اپنے لیے راضی ہو، یعنی ان ہستیوں کی عبادت کرتے رہو جو عبادت کی مستحق نہیں ہیں نہ انھیں کسی چیز کا کوئی اختیار ہے۔ ﴿اِنِّیْ عَامِلٌ ﴾ اور میں تمھیں اکیلے اللہ تعالیٰ کے لیے دین کو خالص کرنے کی دعوت دیتا رہوں گا۔ ﴿فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ کس کا انجام اچھا ہے۔ ﴿مَنْ یَّ٘اْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ ﴾ ’’اور کس پر ایسا عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا؟‘‘ یعنی دنیا میں ﴿وَیَحِلُّ عَلَیْهِ ﴾ ’’اور نازل ہوگا اس پر‘‘ یعنی آخرت میں ﴿عَذَابٌ مُّقِیْمٌ ﴾ ’’ہمیشہ کا عذاب۔‘‘آخرت میں اس کو ہمیشہ قائم رہنے والے عذاب میں ڈالا جائے گا، یہ عذاب اس سے ہٹایا جائے گا نہ ختم ہو گا۔ یہ مشرکین کے لیے سخت تہدید ہے۔ انھیں بھی معلوم ہے کہ وہ دائمی عذاب کے مستحق ہیں، مگر ظلم اور عناد ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان حائل ہوگیا ہے ۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 40 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتغافرغافر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید