الزمر

زمر

75 آیاتمکیپارہ 23

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 45

    وَإِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَحْدَهُ ٱشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْـَٔاخِرَةِ ۖ وَإِذَا ذُكِرَ ٱلَّذِينَ مِن دُونِهِۦٓ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ

    جب اللہ اکیلے کا ذکر کیا جائے تو ان لوگوں کے دل نفرت کرنے لگتے ہیں[1] جو آخرت کایقین نہیں رکھتے اور جب اس کے سوا (اور کا) ذکر کیا جائے تو ان کے دل کھل کر خوش ہو جاتے ہیں.[2]

    حواشی

    [1] یا کفر اور استکبار، یا انقباض محسوس کرتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ مشرکین سے جب یہ کہا جائے کہ معبود صرف ایک ہی ہے توان کے دل یہ بات ماننے کےلیے تیار نہیں ہوتے۔ [2] ہاں جب یہ کہا جائے کہ فلاں فلاں بھی معبود ہیں، یا وہ بھی آخر اللہ کے نیک بندے ہیں، وہ بھی کچھ اختیار رکھتے ہیں، وہ بھی مشکل کشائی اور حاجت روائی کر سکتے ہیں، تو پھر مشرکین بڑے خوش ہوتے ہیں۔ منحرفین کا یہی حال آج بھی ہے۔ جب ان سے کہا جائے کہ صرف (یااللہ مدد) کہو، کیونکہ اس کے سوا کوئی مدد کرنے پر قادر نہیں ہے، تو سیخ پا ہو جاتےہیں، یہ جملہ ان کےلیے سخت ناگوار ہوتا ہے۔ لیکن جب ”یا علی مدد“ یا ”یا رسول اللہ مدد“ کہا جائے، اسی طرح دیگر مردوں سے استمداد و استغاثہ کیاجائے مثلاً ”یا شیخ عبدالقادر شیئا للہ“ وغیرہ تو پھر ان کے دل کی کلیاں کھل اٹھتی ہیں۔ فَتَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 45 - 46 کی تفسیر

    [45، 46] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے حال اور ان کے شرک کے تقاضے کا ذکر کرتا ہے۔ ﴿وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ ﴾ ’’جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے‘‘ یعنی جب اس کی توحید کا ذکر کیا جاتا ہے، دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرکے عمل کرنے اور اس کے سوا دیگر معبودوں کو چھوڑنے کے لیے کہا جاتا ہے جن کی وہ عبادت کرتے ہیں، تو وہ منقبض ہو جاتے ہیں، نفرت کرتے ہیں اور شدید ناگواری کا اظہار کرتے ہیں۔ ﴿وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ﴾ اور جب اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں اور خود ساختہ معبودوں کا ذکر کیا جاتا ہے اور دعوت دینے والا ان کی عبادت اور ان کی مدح کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ۠ ﴾ تو وہ اپنے معبودوں کا ذکر سن کر فرحت اور خوشی سے کھل اٹھتے ہیں۔ کیونکہ شرک ان کی خواہشات نفس کے موافق ہے ، ان کی یہ حالت بدترین حالت ہے، مگر ان سے روز جزا تک کے لیے مہلت کا وعدہ کیا گیا ہے، اس لیے اس دن ان سے حق وصول کیا جائے گا اور اس دن دیکھا جائے گا کہ آیا ان کے معبود ان کو کوئی فائدہ دے سکتے ہیں جن کی یہ لوگ عبادت کیا کرتے ہیں؟ اسی لیے فرمایا: ﴿قُ٘لِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ﴾ یعنی کہہ دیجیے: اے اللہ! زمین و آسمان کو پیدا کرنے اور ان کی تدبیر کرنے والے ﴿عٰؔلِمَ الْغَیْبِ ﴾ اور ان تمام امور کو جاننے والے جو ہماری آنکھوں اور ہمارے علم سے غائب ہیں ﴿وَالشَّهَادَةِ ﴾ اور جن کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔ ﴿اَنْتَ تَحْكُمُ بَیْنَ عِبَادِكَ فِیْ مَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ ﴾ ’’تو ہی اپنے بندوں میں ان باتوں کا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں، فیصلہ کرے گا۔‘‘ اور سب سے بڑا اختلاف جو موحد و مخلص بندوں، جو کہتے ہیں کہ ان کا موقف حق ہے اور آخرت میں صرف انھی کے لیے بھلائی ہے، اور مشرکین کے درمیان ہے جنھوں نے تجھے چھوڑ کر بتوں اور دوسری ہستیوں کو اپنا معبود بنا لیا اور ان ہستیوں کو تیرے برابر ٹھہرایا جو کسی طرح بھی برابر نہیں ہیں وہ تجھے انتہائی حد تک ناقص قرار دیتے ہیں، جب ان کے خود ساختہ معبودوں کا ذکر ہوتا ہے تو خوشی سے کھل اٹھتے ہیں اور جب تیرا ذکر ہوتا ہے تو وہ نہایت کراہت سے منقبض ہو جاتے ہیں بایں ہمہ ان کو زعم ہے کہ وہ حق پر ہیں اور دوسرے باطل پر ہیں اور وہ آخرت میں بھلائی سے بہرہ مند ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ هَادُوْا وَالصّٰؔبِــِٕیْنَ وَالنَّ٘صٰرٰى وَالْمَجُوْسَ وَالَّذِیْنَ اَشْرَؔكُوْۤا١ۖ ۗ اِنَّ اللّٰهَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُ٘لِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ ﴾ (الحج: 22؍17) ’’بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے، جو یہودی، عیسائی، صابی اور مجوسی ہیں اور وہ لوگ جنھوں نے شرک کیا، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان سب کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ بے شک اللہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ اس کے بعد آگے چل کر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے فیصلے سے آگاہ فرمایا: ﴿هٰؔذٰنِ خَ٘صْمٰنِ اخْ٘تَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ١ٞ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ١ؕ یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُؔءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُۚ۰۰ یُصْهَرُ بِهٖ مَا فِیْ بُطُوْنِهِمْ وَالْجُلُوْدُؕ۰۰ وَلَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ۰۰كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْهَا١ۗ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِؒ۰۰ اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْ٘هٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا١ؕ وَلِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ ﴾ (الحج: 22؍19-23) ’’یہ جھگڑے کے دو فریق ہیں جنھوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا۔ پس ان میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان کو آگ کے کپڑے پہنائے جائیں گے اور ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا۔ جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر تک کے حصے گل جائیں گے اور ان کے لیے لوہے کے گرز ہوں گے، جب بھی وہ غم کے مارے جہنم سے نکلنا چاہیں گے تو اسی میں لوٹادیے جائیں گے (اور انھیں کہا جائے گا:) اب جلا دینے والے عذاب کا مزا چکھو، بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اللہ تعالیٰ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ انھیں اس میں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور ان کے لباس ریشم کے ہوں گے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یَلْ٘بِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ﴾ (الانعام: 6؍82) ’’وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہ کیا، وہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے (مکمل) امن ہے اور وہی راہ راست پر ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿اِنَّهٗ مَنْ یُّ٘شْ٘رِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَمَاْوٰىهُ النَّارُ ﴾ (المائدۃ: 5؍72) ’’جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو بلاشبہ اس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے عموم تخلیق، عموم علم اور بندوں کے درمیان عموم حکم کا بیان ہے، تمام مخلوقات اس کی قدرت سے پیدا ہوئی ہے اس کا علم ہر شے کو محیط ہے اور دلالت کرتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا اور انھیں دوبارہ زندہ کرے گا، بندوں کے اچھے برے اعمال اور ان کی جزاوسزا اور اس کی تخلیق اس کے علم پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ﴾ (الملک:67؍14)’’ کیا وہ نہیں جانتا جس نے (انھیں) پیدا کیا؟‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 45 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتغافرغافر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید