الزمر

زمر

75 آیاتمکیپارہ 23

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 7

    إِن تَكْفُرُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِىٌّ عَنكُمْ ۖ وَلَا يَرْضَىٰ لِعِبَادِهِ ٱلْكُفْرَ ۖ وَإِن تَشْكُرُوا۟ يَرْضَهُ لَكُمْ ۗ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۗ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُم مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ۚ إِنَّهُۥ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ

    اگر تم ناشکری کرو تو (یاد رکھو کہ) اللہ تعالیٰ تم (سب سے) بے نیاز ہے[1] ، اور وه اپنے بندوں کی ناشکری سے خوش نہیں اور اگر تم شکر کرو تو وه اسے تمہارے لئے پسند کرے گا[2]۔ اور کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھاتا پھر تم سب کا لوٹنا تمہارے رب ہی کی طرف ہے۔ تمہیں وه بتلا دے گا جو تم کرتے تھے۔ یقیناً وه دلوں تک کی باتوں کا واقف ہے.

    حواشی

    [1] اس کی تشریح کے لئے دیکھئے سورۂ ابراہیم آیت 8 کا حاشیہ۔ [2] یعنی کفر اگرچہ انسان اللہ کی مشیت ہی سے کرتا ہے، کیوں کہ اس کی مشیت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا نہ ہی ہو سکتا ہے۔ تاہم کفر کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا۔ اس کی رضا حاصل کرنے کا راستہ تو شکر ہی کا راستہ ہے نہ کہ کفر کا۔ یعنی اس کی مشیت اور چیز ہے اور اس کی رضا اور چیز ہے، جیسا کہ پہلے بھی اس نکتے کی وضاحت بعض مقامات پر کی جا چکی ہے۔ دیکھئے صفحہ۔ 109۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 7 کی تفسیر

    [7] ﴿اِنْ تَكْ٘فُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ ﴾ ’’اگر ناشکری کروگے تو اللہ تم سے بے نیاز ہے۔‘‘ جس طرح تمھاری اطاعت اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی اسی طرح تمھارا کفر اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، بلکہ تمھارے لیے اس کا امرونہی تم پر اس کا محض فضل و احسان ہے ﴿وَلَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْ٘كُفْرَ ﴾ ’’اور وہ اپنے بندوں کے لیے ناشکری پسند نہیں کرتا۔‘‘ کیونکہ ان پر اس کا کامل احسان ہے اسے معلوم ہے کہ کفر ان کو ایسی بدبختی میں مبتلا کر دے گا کہ اس کے بعد انھیں کبھی خوش بختی نصیب نہ ہو گی۔ نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہی وہ غرض و غایت ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا، اس لیے اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ بندے اس مخلوق کو پکاریں جس کو اس مقصد کے لیے تخلیق نہیں کیا گیا ﴿وَاِنْ تَشْكُرُوْا ﴾ اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے لیے دین میں اخلاص اختیار کر کے اس کا شکر ادا کرو تو ﴿یَرْضَهُ لَكُمْ ﴾ ’’وہ اس کو تمھارے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘ کیونکہ تم پر اس کی بے پایاں رحمت سایہ کناں ہے، وہ تم پر احسان کو پسند کرتا ہے اور تم اس فعل کو بجا لارہے ہو جس کے لیے تمھیں پیدا کیا گیا ہے۔ تمھارے شرک سے اسے کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے نہ تمھارے اعمال اور تمھاری توحید سے اسے کوئی فائدہ، تم میں سے ہر شخص کا اچھا برا عمل اسی کے لیے ہے۔ ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ﴾ ’’کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘ ﴿ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ ﴾ ’’، پھر تم کو اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے‘‘ یعنی قیامت کے روز ﴿فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ﴾ ’’ وہ تمھارے اعمال کے بارے میں آگاہ کرے گا‘‘ جن کا اس کے علم نے احاطہ کر رکھا ہے، جن پر اس کا قلم جاری ہو چکا ہے، جنھیں معزز محافظین نے صحیفوں میں درج کر رکھا ہے اور جن پر تمھارے جوارح تمھارے خلاف گواہی دیں گے اور وہ تم میں سے ہر ایک کو اس کے استحقاق کے مطابق جزا دے گا۔ ﴿اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ﴾ اللہ تعالیٰ سینوں کے اندر پنہاں نیکی اور برائی کے اوصاف کو خوب جانتا ہے۔ اس آیت کریمہ کا مقصود کامل عدل و انصاف پر مبنی جزا و سزا کے بارے میں خبر دینا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 7 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتغافرغافر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید