النساء

نساء

176 آیاتمدنیپارہ 4

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 105

    إِنَّآ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلْكِتَـٰبَ بِٱلْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ ٱلنَّاسِ بِمَآ أَرَىٰكَ ٱللَّهُ ۚ وَلَا تَكُن لِّلْخَآئِنِينَ خَصِيمًا

    یقیناً ہم نے تمہاری طرف حق کے ساتھ اپنی کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ تم لوگوں میں اس چیز کے مطابق فیصلہ کرو جس سے اللہ نے تم کو شناسا کیا ہے[1] اور خیانت کرنے والوں[2] کے حمایتی نہ بنو۔

    حواشی

    [1] ان آیات (104 سے 113تک) کی شان نزول میں بتلایا گیا ہے کہ انصار کے قبیلہ بنی ظفر میں ایک شخص طعمہ یا بشیر بن ابیرق نے ایک انصاری کے زرہ چرالی، جب اس کا چرچا ہوا اور اس کو اپنی چوری کے بے نقاب ہونے کا خطرہ محسوس ہوا تو اس نے وہ زرہ ایک یہودی کے گھر پھینک دی اوربنی ظفر کے کچھ آدمیوں کو ساتھ لے کر نبی (صلى الله عليه وسلم) کی خدمت میں پہنچ گیا، ان سب نے کہا کہ زرہ چوری کرنے والا فلاں یہودی ہے۔ یہودی نبی (صلى الله عليه وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا کہ بنی ابیرق نے زرہ چوری کر کے میرے گھر پھینک دی ہے۔ بنی ظفر اور بنی ابیرق (طعمہ یا بشیر وغیرہ) ہشیار تھے اور نبی (صلى الله عليه وسلم) کو باور کراتے رہے کہ چور یہودی ہی ہے اور وہ طعمہ پرالزام لگانے میں جھوٹا ہے، نبی (صلى الله عليه وسلم) بھی ان کی چکنی چپڑی باتوں سے متاثر ہوگئے اور قریب تھا کہ اس انصاری کو چوری کے الزام سے بری کر کے یہودی پر چوری کی فرد جرم عائد فرما دیتے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی۔ جس سے ایک بات یہ معلوم ہوئی کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) بھی بہ حیثیت ایک انسان کے غلط فہمی میں پڑ سکتے ہیں۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ آپ عالم الغیب نہیں تھے، ورنہ آپ (صلى الله عليه وسلم) پر فوراً صورتِ حال واضح ہو جاتی۔ تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر (صلى الله عليه وسلم) کی حفاظت فرماتا ہے اور اگر کبھی حق کے پوشیدہ رہ جانے اور اس سے ادھر ادھر ہو جانے کا مرحلہ آجائے تو فوراً اللہ تعالیٰ اسے متنبہ فرما دیتا ہے اور اس کی اصلاح فرما دیتا ہے جیسا کہ عصمت انبیا کا تقاضا ہے۔ یہ وہ مقام عصمت ہے جو انبیا کے علاوہ کسی اور کو حاصل نہیں۔ [2] اس سے مراد وہی بنی ابیرق ہے۔ جنہوں نے چوری خود کی لیکن اپنی چرب زبانی سے یہودی کو چور باور کرانے پر تلے ہوئے تھے۔ اگلے آیات میں بھی ان کے اور ان کے حمایتیوں کےغلط کردار کو نمایاں کرکے نبی (صلى الله عليه وسلم) کو خبردار کیا جا رہا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 105 کی تفسیر

    [105] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی یعنی بوقت نزول اس کتاب کو شیاطین کے باطل وسوسوں سے محفوظ و مامون رکھا۔ بلکہ یہ کتاب عظیم حق کے ساتھ نازل ہوئی اور حق پر ہی مشتمل ہے۔ اس کی خبریں سچی اور اس کے اوامر و نواہی عدل پر مبنی ہیں ﴿وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ﴾ (الانعام : 6؍115) ’’تیرے رب کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہوئیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اس کتاب کو اس لیے نازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے۔ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ ﴾ (النحل : 16؍44) ’’ہم نے آپ(e)کی طرف قرآن نازل کیا تاکہ جو کچھ ان کی طرف نازل کیا گیا ہے آپ لوگوں پر واضح کر دیں۔‘‘ اس امر کا بھی احتمال ہے کہ یہ آیت کریمہ لوگوں کے آپس کے اختلافات اور نزاعی مسائل کے فیصلے کے بارے میں نازل ہوئی ہو۔ اور سورۃ النحل کی آیت کریمہ تمام دین، اس کے اصول و فروع کی تبیین کے بار ے میں نازل ہوئی ہو۔ نیز یہ احتمال بھی ہے کہ دونوں آیات کے معنی ایک ہی ہوں۔ تب اس صورت میں لوگوں کے درمیان یہ فیصلہ کرنا، ان کے خون، اموال، عزت و آبرو، حقوق، عقائد اور تمام مسائل و احکام کے فیصلوں کو شامل ہے۔ فرمایا: ﴿ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ کی ہدایات کے مطابق‘‘ یعنی آپ اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کریں بلکہ اس الہام اور علم کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى ؕ۰۰ اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰؔى﴾ (النجم : 53؍3۔4) ’’ہمارا رسول اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ یہ تو وحی ہے جو اس کی طرف بھیجی جاتی ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ رسول اللہeان تمام احکام میں معصوم اور محفوظ ہیں جو آپeنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو پہنچائے۔ نیز اس امر کی دلیل ہے کہ فیصلہ کرنے کے لیے علم اور عدل شرط ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ کی ہدایات کے مطابق‘‘ اور یہ نہیں فرمایا: (بِمَا رَایْتَ) ’’جو آپ نے دیکھا یا جو آپ کی اپنی رائے ہے‘‘ اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کو کتاب اللہ کی معرفت پر مترتب فرمایا ہے۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کے مابین ایسے فیصلے کا حکم دیا ہے جو عدل و انصاف پر مبنی ہو اس لیے ظلم وجور سے منع کیا ہے جو عدل و انصاف کی عین ضد ہے۔ پس فرمایا ﴿ وَلَا تَكُ٘نْ لِّلْخَآىِٕنِیْنَ خَصِیْمًا﴾ ’’اور خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنو‘‘ یعنی جس کی خیانت کے بارے میں آپeکو علم ہے کہ اس کا دعویٰ ناحق ہے یا وہ کسی کے حق کا انکار کر رہا ہے، اس کی حمایت میں جھگڑا نہ کریں۔ خواہ وہ علم رکھتے ہوئے اس خیانت کا ارتکاب کر رہا ہو یا محض ظن و گمان کی بنا پر۔ آیت کریمہ کے اس حصے میں کسی باطل معاملے میں جھگڑنے اور دینی خصومات اور دنیاوی حقوق میں کسی باطل پسند کی نیابت کی تحریم کی دلیل ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ کسی ایسے شخص کے جھگڑے کی نیابت کرنا جائز ہے جو کسی ظلم میں معروف نہ ہو۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 105 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتمائدہالمائدة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید