النساء

نساء

176 آیاتمدنیپارہ 4

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 112

    وَمَن يَكْسِبْ خَطِيٓـَٔةً أَوْ إِثْمًا ثُمَّ يَرْمِ بِهِۦ بَرِيٓـًٔا فَقَدِ ٱحْتَمَلَ بُهْتَـٰنًا وَإِثْمًا مُّبِينًا

    اور جو شخص کوئی گناه یا خطا کر کے کسی بے گناه کے ذمے تھوپ دے، اس نے بہت بڑا بہتان اٹھایا اور کھلا گناه کیا۔[1]

    حواشی

    [1] جس طرح بنو ابیرق نے کیا کہ چوری خود کی اور تہمت کسی اور پر دھر دی۔ یہ زجرو توبیخ عام ہے۔ جو بنو ابیرق کو بھی شامل ہے اور ان کو بھی جو اس کی سی بدخصلتوں کے حامل اور ان جیسے برے کاموں کے مرتکب ہوں گے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 112 کی تفسیر

    [112] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنْ یَّؔكْسِبْ خَطِیْٓئَةً اَوْ اِثْمًا ﴾ ’’جو شخص کبیرہ یا صغیرہ گناہ تو خود کرے‘‘ ﴿ ثُمَّ یَرْمِ بِهٖ ﴾ ’’پھر اس سے کسی (بے گناہ) کو متہم کرے۔‘‘ یعنی اپنے گناہ کو کسی اور کے سر تھوپ دے ﴿ بَرِیْؔـٓـــًٔا ﴾ ’’جو اس گناہ سے بری ہے۔‘‘ خواہ اس نے کسی اور گناہ کا ارتکاب کیوں نہ کیا ہو ﴿ فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِیْنًا﴾ ’’تو اس نے بہت بڑا بہتان باندھا اور کھلا گناہ کیا‘‘ یعنی اس نے بے گناہ پر لگائے گئے بہتان کے گناہ کا بوجھ بھی اٹھا لیا اور اس ظاہری گناہ کا بوجھ بھی جس کا اس نے ارتکاب کیا۔ یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ بہتان ہلاک کرنے والے کبائر میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں متعدد مفاسد جمع ہیں: (۱) گناہ کبیرہ کا ارتکاب۔ (۲) پھر اس گناہ کا بہتان اس شخص پر لگا دینا جو بے گناہ ہے۔ (۳) پھر اپنے آپ کو بے گناہ اور بے گناہ کو گناہ گار ثابت کرنے کے لیے جھوٹ بولنا۔ (۴) پھر اس گناہ پر جو دنیاوی عقوبت مترتب ہوتی ہے وہ عقوبت ایک بے گناہ پر نافذ کر دینا اور اس شخص کو اس سزا سے بچا لینا جو حقیقی مجرم ہے۔ (۵) پھر بے گناہ شخص کے بارے میں لوگوں کی باتیں اور دیگر مفاسد۔ ان تمام مفاسد اور ہر شر سے ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 112 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتمائدہالمائدة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید