النساء

نساء

176 آیاتمدنیپارہ 4

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 119

    وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَـَٔامُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ ءَاذَانَ ٱلْأَنْعَـٰمِ وَلَـَٔامُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ ٱللَّهِ ۚ وَمَن يَتَّخِذِ ٱلشَّيْطَـٰنَ وَلِيًّا مِّن دُونِ ٱللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِينًا

    اور انہیں راه سے بہکاتا رہوں گا اور باطل امیدیں دﻻتا رہوں گا[1] اور انہیں سکھاؤں گا کہ جانوروں کی کان چیر دیں[2]، اور ان سے کہوں گا کہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی صورت کو بگاڑ دیں[3]، سنو! جو شخص اللہ کو چھوڑ کرشیطان کو اپنا رفیق بنائے گا وه صریح نقصان میں ڈوبے گا۔

    حواشی

    [1] یہ وہ باطل امیدیں ہیں جو شیطان کے وسوسوں اور دخل اندازی سے پیدا ہوتی اور انسانوں کی گمراہی کا سبب بنتی ہیں۔ [2] یہ بحیرہ اور سائبہ جانوروں کی علامتیں اور صورتیں ہیں۔ مشرکین ان کو بتوں کے نام وقف کرتے تو شناخت کے لئے ان کا کان وغیرہ چیر دیا کرتے تھے۔ [3]”تَغْيِيرُ خَلْقِ اللهِ“ (اللہ کی تخلیق کو بدلنا) کی کئی صورتیں بیان کی گئی ہیں، ایک تو یہی جس کا ابھی یہاں ذکر ہوا یعنی کان وغیرہ کاٹنا، چیرنا، سوراخ کرنا، ان کے علاوہ اور کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے چاند، سورج، پتھر اور آگ وغیرہ اشیا مختلف مقاصد کے لئے بنائی ہیں، لیکن مشرکین نے ان کے مقصد تخلیق کو بدل کر ان کو معبود بنا لیا۔ یا تغییر کا مطلب تغییر فطرت ہے، یا حلت وحرمت میں تبدیلی ہے وغیرہ۔ اسی تغییر میں مردوں کی نس بندی کرکے اور اسی طرح عورتوں کے آپریشن کرکے انہیں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دینا۔ میک اپ کے نام پر ابروؤں کے بال وغیرہ اکھاڑ کر اپنی صورتوں کو مسخ کرنا اور وشم (یعنی گود نے گدوانا) وغیرہ بھی شامل ہیں۔ یہ سب شیطانی کام ہیں جن سے بچنا ضروری ہے۔ البتہ جانوروں کو اس لئے خصی کرنا کہ ان سے زیادہ انتفاع ہو سکے یا ان کا گوشت زیادہ بہتر ہو سکے یا اسی قسم کا کوئی اور صحیح مقصد ہو، تو جائز ہے، اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) نے خصی جانور قربانی میں ذبح فرمائے ہیں۔ اگر جانور کو خصی کرنے کا جواز نہ ہوتا تو آپ (صلى الله عليه وسلم) ان کی قربانی نہ کرتے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 119 کی تفسیر

    [119] یہی وہ مقررہ حصہ ہے جس کے بارے میں شیطان نے قسم کھا رکھی ہے کہ وہ ان سے ضرور حاصل کر کے رہے گا۔ اس نے بتا دیا ہے کہ وہ ان سے کیا چاہتا ہے اور ان کے بارے میں اس کے کیا مقاصد ہیں ﴿ وَّلَاُضِلَّنَّهُمْ۠ ﴾ ’’اور میں انھیں گمراہ کرتا رہوں گا۔‘‘ یعنی میں انھیں صراط مستقیم سے بھٹکاؤں گا اور علم و عمل میں انھیں گمراہ کر کے رہوں گا۔ ﴿ وَلَاُمَنِّیَنَّهُمْ ﴾ ’’اور انھیں امیدیں دلاتا رہوں گا۔‘‘ یعنی میں ان کو گمراہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ امیدیں بھی دلاتا رہوں گا کہ انھیں وہ سب کچھ حاصل ہوگا جو ہدایت یافتہ لوگوں کو حاصل ہوتا ہے اور یہ عین فریب ہے۔ پس اس نے ان کو مجرد گمراہ کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نے اس گمراہی کو ان کے سامنے آراستہ کیا جس میں وہ مبتلا ہوئے اور یہ ان کی برائی میں مزید اضافہ ہے کہ انھوں نے اہل جہنم کے اعمال کیے جو عذاب کے موجب ہیں اور سمجھتے رہے کہ یہ اعمال انھیں جنت میں لے جائیں گے۔ ذرا یہود و نصاریٰ وغیرہ کا حال دیکھو، ان کا وہی رویہ ہے جس کی بابت اللہ نے خبر دی، انھوں نے کہا۔ ﴿ لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰؔى١ؕ تِلْكَ اَمَانِیُّهُمْ ﴾ (البقرۃ : 2؍111) ’’کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی شخص جنت میں نہیں جائے گا یہ ان کی محض باطل آرزوئیں ہیں۔‘‘ فرمایا: ﴿ كَذٰلِكَ زَیَّنَّا لِكُ٘لِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ﴾ (الانعام : 6؍108) ’’اسی طرح ہم نے ہر گروہ کے عمل کو ان کے سامنے آراستہ کر دیا ہے۔‘‘ اور فرمایا ﴿ قُ٘لْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْ٘سَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ۰۰ اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَهُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا ﴾ (الکہف : 18؍103۔104) ’’کہہ دو کہ کیا ہم تمھیں بتائیں کہ اعمال کے لحاظ سے خسارے میں کون ہیں؟ وہ لوگ جن کی کوشش دنیا کی زندگی میں برباد ہو گئی اور وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ منافقین کے بارے میں فرماتا ہے کہ قیامت کے روز وہ اہل ایمان سے کہیں گے ﴿ اَلَمْ نَؔكُنْ مَّعَكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَلٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَ٘رَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَغَرَّؔكُمْ بِاللّٰهِ الْ٘غَرُوْرُ ﴾ (الحدید : 57؍14) ’’کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے؟ اہل ایمان جواب دیں گے کیوں نہیں مگر تم نے اپنے تئیں فتنے میں ڈال لیا تھا اور ہمارے بارے میں حوادث زمانہ کے منتظر تھے اور تم شک میں مبتلا ہوئے۔ تمھیں آرزوؤں نے فریب میں مبتلا کیے رکھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ گیا۔ اور دھوکے باز (شیطان) تمھیں اللہ کے بارے میں فریب دیتا رہا۔‘‘ ﴿ وَلَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُبَتِّكُ٘نَّ۠ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ ﴾ ’’اور یہ حکم دیتا رہوں گا کہ جانوروں کے کان چیرتے رہیں۔‘‘ یعنی میں ان کو مویشیوں کے کان کاٹنے کا حکم دوں گا (تاکہ علامت بن جائے کہ یہ غیر اللہ کے نام پر چھوڑا ہوا جانور ہے) مثلاً ’’بَحِیرَہ‘‘ ’’سَائِبَہ‘‘ ’’وَصِیلَہ‘‘ اور ’’حَام‘‘ وغیرہ پس ایک کی طرف اشارہ کر کے تمام مراد لیے ہیں۔ گمراہی کی یہ قسم اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانے اور حرام کردہ چیزوں کو حلال ٹھہرانے کی مقتضی ہے اور اسی میں فاسد اعتقادات اور ظلم و جور پر مبنی احکام بھی شامل ہیں جو بڑی گمراہیوں میں سے ہیں۔ ﴿ وَلَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ۠ خَلْ٘قَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں انھیں حکم دوں گا پس وہ اللہ کی بنائی ہوئی صورتیں بدلیں گے‘‘ اس کا اطلاق ظاہری تخلیق پر ہوتا ہے یعنی گودنا، دانتوں کو باریک کرنا، چہرے سے بال اکھیڑنا اور دانتوں کے درمیان فاصلہ بنانا ان تمام چیزوں کے ذریعے سے شیطان نے لوگوں کو گمراہ کیا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو بدل ڈالا۔ لوگوں کی یہ حرکتیں اس بات کو متضمن ہیں کہ یہ لوگ اللہ کی پیدائش پر ناراض اور اس کی حکمت پر نکتہ چین ہیں۔ نیز ان کا اعتقاد ہے کہ وہ کام جو وہ اپنے ہاتھوں سے سرانجام دیتے ہیں وہ اللہ کی تخلیق سے بہتر ہے۔ نیز یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور تدبیر پر بھی راضی نہیں ہیں۔ شیطان کا یہ کام باطنی تخلیق کی تبدیلی کو بھی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو حنیف بنا کر اچھی فطرت پر پیدا کیا ہے، ان میں قبول حق اور حق کو ترجیح دینے والوں کی فطرت تخلیق کی۔ شیاطین آئے اور انھوں نے ان کو اس خوبصورت تخلیق سے ہٹا دیا اور شر، شرک، کفر، فسق اور معصیت کو ان کے سامنے آراستہ کر دیا، اس لیے کہ پیدا ہونے والا ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ مگر اس کے والدین اسے یہودی نصرانی یا مجوسی وغیرہ بنا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو جس فطرت پر پیدا کیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی محبت اور اس کی معرفت، وہ اس فطرت کو بدل ڈالتے ہیں۔ اس مقام پر شیاطین بندوں کا اسی طرح شکار کرتے ہیں جس طرح درندے اور بھیڑیئے ریوڑ سے الگ ہونے والی بھیڑ بکریوں کو پھاڑ کھاتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر فضل و کرم نہ ہوتا تو ان کا بھی وہی حشر ہوتا جو ان فتنہ زدہ لوگوں کا ہوا ہے۔ پس وہ بھی دنیا و آخرت کے خسارے میں پڑ جاتے اور انھیں ناکامی اور گھاٹے کا منہ دیکھنا پڑتا۔ ان فتنہ زدہ لوگوں کا یہ حشر اس وجہ سے ہوا کہ انھوں نے اپنے رب اور اپنے پیدا کرنے والے سے منہ موڑ کر ایسے دشمن کو اپنا سرپرست بنا لیا جو ہر لحاظ سے ان سے برائی کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنْ یَّؔتَّؔخِذِ الشَّ٘یْطٰ٘نَ وَلِیًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَقَدْ خَسِرَ خُ٘سْرَانًا مُّؔبِیْنًا﴾ ’’جو شخص اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا رفیق بنائے گا وہ صریح نقصان میں ڈوبے گا۔‘‘ جو دین و دنیا کے خسارے میں پڑ جائے اور جسے اس کے گناہ اور نافرمانیاں ہلاک کر ڈالیں اس سے زیادہ واضح اور بڑا خسارہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ وہ ہمیشہ رہنے والی نعمت سے محروم ہو کر ابدی بدبختی میں مبتلا ہو گئے۔ اسی طرح جو کوئی اپنے آقا اور مولا ہی کو اپنا سرپرست بناتا ہے اور اس کی رضا کو ترجیح دیتا ہے، وہ ہر لحاظ سے فائدے میں رہتا ہے، ہر طرح سے فلاح پاتا ہے دنیا و آخرت کی سعادت حاصل کرتا ہے اور اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ اے اللہ! جو چیز تو عطا کرے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جس چیز سے تو محروم کر دے اسے کوئی عطا نہیں کر سکتا۔ اے اللہ! جن لوگوں کی تو نے سرپرستی فرمائی ان لوگوں کی معیت میں ہماری بھی سرپرستی فرما۔ اور جن لوگوں کو تو نے عافیت سے نوازا ان کے ساتھ ہمیں بھی عافیت سے نواز۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 119 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتمائدہالمائدة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید