النساء

نساء

176 آیاتمدنیپارہ 4

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 131

    وَلِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ وَلَقَدْ وَصَّيْنَا ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ مِن قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ وَإِن تَكْفُرُوا۟ فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَنِيًّا حَمِيدًا

    زمین اور آسمانوں کی ہر ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت میں ہے اور واقعی ہم نے ان لوگوں کو جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے تھے اور تم کو بھی یہی حکم کیا ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور اگر تم کفر کرو تو یاد رکھو کہ اللہ کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ بہت بے نیاز اور تعریف کیا گیا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 131 - 132 کی تفسیر

    [132,131] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے وسیع اور عظیم اقتدار کے عموم کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ شرعاً اور قدراً مختلف طریقوں سے کائنات کی تدبیر کرے اور گوناگوں تصرفات کے ذریعے سے اس میں تصرف کرے۔ اس کا تصرف شرعی یہ ہے کہ اس نے سابقین و اولین اور کتب سابقہ اور بعد میں نازل ہونے والی کتابوں کے ماننے والوں کو تقویٰ کی وصیت کی ہے جو امر و نہی، تشریح احکام اور اس شخص کے لیے ثواب کو متضمن ہے جو اس وصیت پر عمل کرتا ہے اور اس شخص کے لیے دردناک عذاب کی وعید کو متضمن ہے جو اس وصیت کو ضائع کرتا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنْ تَكْ٘فُ٘رُوْا ﴾ ’’اور اگر کفر کروگے۔‘‘ یعنی اگر تم تقویٰ ترک کر دو اور کفر اختیار کر لو اور ایسی چیزوں کو اللہ کا شریک ٹھہرا لو جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی تو اس طرح تم صرف اپنے آپ کو ہی نقصان پہنچاؤ گے، اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اللہ تعالیٰ کے اقتدار میں ذرہ بھر کمی نہیں کر سکتے۔ اس کے اور بھی بندے ہیں جو تم سے بہتر اور تم سے زیادہ اطاعت گزار اور اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے والے ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد فرمایا: ﴿ وَاِنْ تَكْ٘فُ٘رُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَنِیًّا حَمِیْدًا ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ کامل جود و کرم اور احسان کا مالک ہے جو کچھ اس کی رحمت کے خزانوں سے صادر ہوتا ہے وہ خرچ کرنے سے کم نہیں ہوتا۔ یہ خزانے اگر دن رات خرچ ہوتے رہیں تب بھی ختم نہیں ہوں گے۔ اگر زمین و آسمان کے رہنے والے اول سے لے کر آخر تک تمام لوگ اپنی اپنی آرزوؤں کے مطابق اللہ تعالیٰ سے سوال کریں تو اس کی ملکیت میں ذرہ بھر کمی نہ ہو گی۔ کیونکہ وہ جواد ہے، ہر چیز کو وجود بخشنے والا اور بزرگی کا مالک ہے۔ وہ اپنے کلام سے عطا کرتا ہے اور اپنے کلام سے عذاب دیتا ہے۔ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے ’’ہوجا‘‘ اور وہ ہو جاتی ہے۔ اس کی تمام تر بے نیازی یہ ہے کہ وہ کامل اوصاف کا مالک ہے کیونکہ اگر کسی بھی لحاظ سے اس میں کوئی نقص ہوتا تو وہ اس کمال کے لیے محتاج ہوتا۔ بلکہ اس کے لیے کمال کی ہر صفت ہے اور انھی میں سے ایک صفت کمال ہے اور یہ اس کی بے نیازی ہی ہے کہ اس کی کوئی بیوی اور کوئی اولاد نہیں۔ اقتدار میں اس کا کوئی شریک ہے نہ کوئی مددگار اور اس کے اپنے اقتدار کی تدبیر میں اس کا کسی قسم کا کوئی معاون نہیں۔ یہ اس کا کامل غنا اور اس کی بے نیازی ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی اپنے تمام احوال اور تمام معاملات میں اسی کے محتاج ہیں اور اپنی چھوٹی بڑی حاجتوں میں اسی سے سوال کرتے ہیں..... اور اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے مطلوب اور سوال کو پورا کرتا ہے، ان کو غنی اور مال دار کر دیتا ہے ان کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا ہے اور انھیں راہ ہدایت دکھاتا ہے۔ رہا اسم گرامی (حمید) تو یہ نام اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنی میں شمار ہوتا ہے اور اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ وہ ہر قسم کی حمد و ثنا، محبت اور اکرام کا مستحق ہے۔ اس لیے وہ صفات حمد سے متصف ہے جو کہ جمال و جلال کی صفات ہیں اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے اس لیے وہ ہر حال میں ’’محمود‘‘ ہے۔ ان دو اسمائے گرامی یعنی (اَلْغَنِیُّ) (اَلْحَمِیْدُ) کا یک جا ہونا کتنا خوبصورت ہے۔ یقینا وہ بے نیاز اور قابل تعریف ہے، اسے کمال بے نیازی بھی حاصل ہے اور کمال حمد بھی اور ان دونوں کے حسن امتزاج کا کمال بھی۔ پھر اس نے مکرر فرمایا ہے کہ زمین اور آسمانوں میں اقتدار اسی کا ہے اور ہر چیز کو کفایت کرنے والا وہی ہے۔ یعنی وہ علم رکھنے والا اور اپنی حکمت کے مطابق تمام اشیاء کی تدبیر کرتا ہے اور یہی کامل کفایت اور وکالت ہے کیونکہ وکالت اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ جس چیز کا وکیل ہے اسے اس کا پورا پورا علم ہو۔ پھر اس کو نافذ کرنے اور تدبیر کرنے میں پوری قوت اور قدرت رکھتا ہو۔ اور یہ تدبیر حکمت اور مصلحت پر مبنی ہو۔ اگر ان امور میں کوئی کمی ہے تو وہ وکیل میں نقص کی وجہ سے ہے اور اللہ تعالیٰ ہر نقص سے منزہ ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 131 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتمائدہالمائدة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید