النساء

نساء

176 آیاتمدنیپارہ 4

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 146

    إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُوا۟ وَأَصْلَحُوا۟ وَٱعْتَصَمُوا۟ بِٱللَّهِ وَأَخْلَصُوا۟ دِينَهُمْ لِلَّهِ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ مَعَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۖ وَسَوْفَ يُؤْتِ ٱللَّهُ ٱلْمُؤْمِنِينَ أَجْرًا عَظِيمًا

    ہاں جو توبہ کر لیں اور اصلاح کر لیں اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین رکھیں اور خالص اللہ ہی کے لئے دینداری کریں تو یہ لوگ مومنوں کے ساتھ ہیں[1] ، اللہ تعالیٰ مومنوں کو بہت بڑا اجر دے گا۔

    حواشی

    [1] یعنی منافقین میں سے جو ان چار چیزوں کا خلوص دل سے اہتمام کرے گا وہ جہنم میں جانے کے بجائے جنت میں اہل ایمان کے ساتھ ہوگا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 146 کی تفسیر

    [146] یہ عذاب ہر منافق کے لیے عام ہے سوائے ان کے جن کو اللہ تعالیٰ گناہوں سے توبہ کی توفیق سے نواز دے ﴿ وَاَصْلَحُوْا ﴾ ’’اور وہ (اپنے ظاہر و باطن کی) اصلاح کر لیں۔‘‘ ﴿ وَاعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ (کی رسی) کو مضبوط پکڑلیں۔‘‘ اپنے منافع کے حصول اور ضرر کے دفعیہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر لیں ﴿ وَاَخْلَصُوْا دِیْنَهُمْ ﴾ ’’اور اپنے دین کو خالص کر لیں‘‘ یہاں دین سے مراد اسلام، ایمان اور احسان ہے ﴿ لِلّٰهِ ﴾ ’’اللہ کے لیے‘‘ یعنی ظاہری اور باطنی اعمال میں ان کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہو نیز ریا اور نفاق سے بچے ہوئے ہوں۔ جو لوگ ان صفات سے متصف ہوں گے ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الْ٘مُؤْمِنِیْنَ﴾ وہی دنیا، برزخ اور آخرت میں اہل ایمان کے ساتھ ہوں گے ﴿ وَسَوْفَ یُؤْتِ اللّٰهُ الْ٘مُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا ﴾ ’’اور اللہ عنقریب مومنوں کو بڑا ثواب دے گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ عنقریب اہل ایمان کو ایسے اجر سے نوازے گا جس کی حقیقت و ماہیت کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے دل میں اس کے تصور کا گزر ہوا ہے۔ غور کیجیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ’’اعتصام باللہ‘‘ اور ’’اخلاص‘‘ کا خاص طور پر ذکر کیا ہے حالانکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے ارشاد (وَاَصْلَحُوْا) میں داخل ہیں کیونکہ ’’اِعْتِصَام بِاللہِ‘‘ اور ’’اِخْلَاص‘‘ اصلاح کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصلاح میں ان دو امور کی سخت ضرورت ہے۔ خاص طورپر یہ مقام حرج جہاں دلوں میں نفاق جڑ پکڑ لیتا ہے.... اور نفاق کو صرف اعتصام باللہ، اللہ کے پاس پناہ لینے، اور اس کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی حاجت پیش کر کے ہی زائل کیا جا سکتا ہے اخلاص ہر لحاظ سے پوری طرح نفاق کے منافی ہے۔ اخلاص اور اعتصام کی فضیلت کی بنا پر ان کا تذکرہ کیا ہے، تمام ظاہری اور باطنی اعمال کا دار و مدار انھی دو امور پر ہے کیونکہ اس مقام پر ان دونوں امور کی سخت حاجت ہوتی ہے۔ اس امر پر بھی غور کیجیے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ ان کا ذکر کیا تو ان کے کرتوتوں کی وجہ سے اس نے یہ نہیں فرمایا (وَسَوْفَ یُؤْتِیْھِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا) بلکہ فرمایا ﴿ وَسَوْفَ یُؤْتِ اللّٰهُ الْ٘مُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا ﴾ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدۂ شریف ہے جس کا وہ ہمیشہ اعادہ کرتا رہا ہے کہ جب کلام کا سیاق بعض جزئیات کے بارے میں ہو اور اللہ تعالیٰ ان جزئیات پر ثواب یا عقاب مرتب کرنا چاہتا ہو اور جس جنس میں یہ جزئیات داخل ہیں عذاب یا عقاب ان میں مشترک ہو۔ تو وہ عام حکم کے مقابلہ میں، جس کے تحت یہ قضیہ مندرج ہے ثواب مرتب کرتا ہے تاکہ اس جزوی امر کے ساتھ حکم کا اختصاص متوہم نہ ہو یہ قرآن کریم کے اسرار و بدائع ہیں۔ پس منافقین میں سے اپنے نفاق سے توبہ کرنے والا شخص اہل ایمان کے ساتھ ہو گا اور اسے بھی اہل ایمان والا ثواب ملے گا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 146 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتمائدہالمائدة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید