النساء

نساء

176 آیاتمدنیپارہ 4

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 162

    لَّـٰكِنِ ٱلرَّٰسِخُونَ فِى ٱلْعِلْمِ مِنْهُمْ وَٱلْمُؤْمِنُونَ يُؤْمِنُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ ۚ وَٱلْمُقِيمِينَ ٱلصَّلَوٰةَ ۚ وَٱلْمُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلْمُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ أُو۟لَـٰٓئِكَ سَنُؤْتِيهِمْ أَجْرًا عَظِيمًا

    لیکن ان میں سے جو کامل اور مضبوط علم والے ہیں اور ایمان والے ہیں[1] جو اس پر ایمان ﻻتے ہیں جو آپ کی طرف اتارا گیا اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا اور نمازوں کو قائم رکھنے والے ہیں[2] اور زکوٰة کے ادا کرنے والے ہیں[3] اور اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہیں[4] یہ ہیں جنہیں ہم بہت بڑے اجر عطا فرمائیں گے۔

    حواشی

    [1] ان سے مراد عبداللہ بن سلام (رضي الله عنه) وغیرہ ہیں جو یہودیوں میں سے مسلمان ہوگئے تھے۔ [2] ان سے مراد بھی وہ اہل ایمان ہیں جو اہل کتاب میں سے مسلمان ہوئے یا پھر مہاجرین و انصار مراد ہیں۔ یعنی شریعت کا پختہ علم رکھنے والے اور کمال ایمان سے متصف لوگ ان معاصی کے ارتکاب سے بچتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ ناپسند فرماتا ہے۔ [3] اس سے مراد زکوٰۃ اموال ہے یا زکوٰۃ نفوس یعنی اپنے اخلاق و کردار کی تطہیر اور ان کا تزکیہ کرنا، یا دونوں ہی مراد ہیں۔ [4] یعنی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ نیز بعث بعد الموت اور عملوں پر جزا وسزا کا یقین رکھتے ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 162 کی تفسیر

    [162] جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے معایب بیان کیے تو اب ان لوگوں کا ذکر کر رہا ہے جو ان میں سے قابل تعریف ہیں ۔ ﴿لٰكِنِ الرّٰؔسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ﴾ ’’مگر جو لوگ ان میں سے علم میں پکے ہیں اور مومن ہیں ‘‘ یعنی وہ لوگ جن کے دلوں میں علم مضبوط اور ایقان راسخ ہے اور اس کے ثمرہ میں انھیں ایمان کامل حاصل ہوتا ہے ﴿ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَمَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ﴾ ’’وہ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں جو آپe پر اتاری گئی اور ان کتابوں پر جو آپ سے پہلے اتاری گئیں ۔‘‘ یہ ایمان انھیں اعمال صالحہ کا پھل عطا کرتا ہے ، مثلاً: نماز قائم کرنا اور زکٰوۃ ادا کرنا، یہ دونوں سب سے افضل اعمال ہیں ۔ کیونکہ یہ دونوں معبود کے لیے اخلاص اور اس کے بندوں کے لیے احسان پر مشتمل ہیں ۔ وہ لوگ روز قیامت پر بھی ایمان لاتے ہیں ۔ بنابریں وہ اللہ تعالیٰ کی وعید سے ڈرتے ہیں اور اس کے وعدے پر امید رکھتے ہیں ۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ سَنُؤْتِیْهِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا﴾ ’’ہم عنقریب انھیں اجر عظیم سے نوازیں گے‘‘ کیونکہ انھوں نے علم و ایمان، عمل صالح، گزشتہ اور آئندہ آنے والے انبیاء و مرسلین اور تمام کتب الہیہ پر ایمان کو جمع کر دیا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 162 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتمائدہالمائدة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید