النساء

نساء

176 آیاتمدنیپارہ 4

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 49

    أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُم ۚ بَلِ ٱللَّهُ يُزَكِّى مَن يَشَآءُ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا

    کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا جو اپنی پاکیزگی اور ستائش خود کرتے ہیں؟ بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے پاکیزه کرتا ہے، کسی پر ایک دھاگے کے برابر ﻇلم نہ کیا جائے گا۔[1]

    حواشی

    [1] یہود اپنے منہ میاں مٹھو بنتے تھے مثلاً ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں وغیرہ، اللہ نے فرمایا تزکیہ کا اختیار بھی اللہ کو ہے اور اس کا علم بھی اسی کو ہے۔ فتیل کھجور کی گٹھلی کے کٹاو پرجو دھاگے یا سوت کی طرح نکلتا یا دکھائی دیتا ہے اس کو کہا جاتا ہے۔ یعنی اتنا سا ظلم بھی نہیں کیاجائے گا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 49 کی تفسیر

    [49] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر تعجب کا اظہار اور ان یہودو نصاریٰ وغیرہ کے لیے زجر و توبیخ ہے جو اپنے آپ کو پاک گردانتے ہیں یہ زجر و توبیخ ہر اس شخص کے لیے ہے جو کسی ایسے امر کا دعویٰ کر کے اپنے آپ کو پاک گردانتا ہے جو اس میں نہیں ہے۔ یہود و نصاریٰ یہ دعویٰ کیا کرتے تھے :﴿ نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّآؤُهٗ ﴾ (المائدۃ : 5؍18) ’’ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔‘‘ وہ کہا کرتے تھے :﴿ لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰؔى ﴾ (البقرۃ : 2؍111) ’’جنت میں صرف وہی داخل ہو گا جو یہودی یا نصرانی ہو گا۔‘‘ یہ ان کا مجرد دعویٰ ہے جس پر کوئی دلیل نہیں۔ دلیل تو وہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر فرمائی ہے ﴿ بَلٰى ١ۗ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١۪ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ﴾ (البقرۃ : 2؍112) ’’کیوں نہیں جو شخص اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کر دے اور نیکوکار بھی ہو۔ تو اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے۔ ان کو نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ کوئی غم۔‘‘ یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ بَلِ اللّٰهُ یُزَؔكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ﴾ ’’بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے پاک کرتا ہے‘‘ یعنی ایمان و عمل صالح کے ساتھ، اخلاق رذیلہ ترک کرنے اور اخلاق حسنہ کو اختیار کرنے کی بنا پر اللہ تعالیٰ ان کو پاک کرتا ہے۔ رہے یہ لوگ تو اگرچہ بزعم خود انھوں نے اپنے آپ کو پاک کیا ہوا ہے، اور سمجھتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں اور صرف وہی ثواب کے مستحق ہیں مگر وہ جھوٹے ہیں اور وہ اپنے ظلم اور کفر کے سبب سے پاک لوگوں کی خصوصیات اور خصائل سے بے بہرہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان خصوصیات سے محروم کرکے ظلم نہیں کیا، اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ وَلَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا﴾ ’’ان پر ذرہ بھر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ یہ عموم کے تحقق کے لیے ہے یعنی ان کے ساتھ اس باریک دھاگے جتنا بھی ظلم نہیں ہو گا جو کھجور کی گٹھلی کے ساتھ لگا ہوتا ہے یا ہاتھ رگڑنے سے جو میل کی باریک بتی سی بنتی ہے اس مقدار میں بھی ان پر ظلم نہ ہو گا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 49 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتمائدہالمائدة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید