النساء

نساء

176 آیاتمدنیپارہ 4

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 51

    أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ نَصِيبًا مِّنَ ٱلْكِتَـٰبِ يُؤْمِنُونَ بِٱلْجِبْتِ وَٱلطَّـٰغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا۟ هَـٰٓؤُلَآءِ أَهْدَىٰ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ سَبِيلًا

    کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا کچھ حصہ ملا؟ جو بت کا اور باطل معبود کا اعتقاد رکھتے ہیں اور کافروں کے حق میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان والوں سے زیاده راه راست پر ہیں۔[1]

    حواشی

    [1] اس آیت میں یہودیوں کے ایک اور فعل پر تعجب کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اہل کتاب ہونے کے باوجود ”جِبْت“ (بت، کاہﻦ یا ساحر) اور ”طَاغُوتٌ“ (جھوٹےمعبودوں) پر ایمان رکھتے اور کفار مکہ کو مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ سمجھتے ہیں ”جِبْت“ کے یہ سارے مذکورہ معنی کئے گئے ہیں۔ ایک حدیث میں آتا ہے ”إِنَّ الْعِيَافَةَ وَالطَّرْقَ وَالطِّيَرَةَ مِنَ الْجِبْتِ“ (سنن أبي داود كتاب الطب) ”پرندے اڑا کر، خط کھینچ کر، بدخالی اوربدشگونی لینا یہ جبت سے ہیں۔“ یعنی یہ سب شیطانی کام ہیں اور یہود میں بھی یہ چیزیں عام تھی طاغوت کے ایک معنی شیطان بھی کئے گئے ہیں۔ دراصل معبود ان باطل کی پرستش، شیطان ہی کی پیروی ہے۔ اس لئے شیطان بھی یقیناً طاغوت میں شامل ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 51 کی تفسیر

    [51] یہ یہودیوں کی برائیوں اور رسول اللہeاور اہل ایمان کے ساتھ ان کے حسد کا ذکر ہے۔ ان کے رذیل اخلاق اور خبیث طبیعتوں نے انھیں اللہ تعالی اور اس کے رسول پر ایمان ترک کرنے پر آمادہ کیا اور اس کے عوض ان کو بتوں اور طاغوت پر ایمان لانے کی ترغیب دی۔ طاغوت پر ایمان لانے سے مراد ہر غیر اللہ کی عبادت یا شریعت کے بغیر کسی اور قانون کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہے۔ اس میں جادو، ٹونہ، کہانت، غیر اللہ کی عبادت اور شیطان کی اطاعت وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ سب بت اور طاغوت ہیں۔ اسی طرح ان کے کفر اور حسد نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ کفار اور بت پرستوں کے طریقہ کو اہل ایمان کے طریقہ پر ترجیح دیں ﴿ وَیَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ﴾ ’’اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں۔‘‘ یعنی کفار کی خوشامد اور مداہنت کی خاطر اور ایمان سے بغض کی وجہ سے کہتے تھے ﴿ هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰؔى مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا﴾ ’’طریقے کے اعتبار سے یہ کفار اہل ایمان سے زیادہ راہ ہدایت پر ہیں۔‘‘ وہ کتنے قبیح ہیں، ان کا عناد کتنا شدید، اور ان کی عقل کتنی کم ہے؟ وہ مذمت کی وادی میں، ہلاکت کے راستے پر کیسے گامزن ہیں؟ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بات کسی عقلمند کو قائل کر لے گی یا کسی جاہل کی عقل میں آجائے گی؟ کیا اس دین کو جو بتوں اور پتھروں کی عبادت کی بنیاد پر قائم ہے، جو طیبات کو حرام ٹھہرانے، خبائث کو حلال ٹھہرانے، بہت سی محرمات کو جائز قرار دینے، اللہ تعالی کی مخلوق پر ظلم کے ضابطوں کو قائم کرنے، خالق کو مخلوق کے برابر قرار دینے، اللہ، اس کے رسول اور اس کی کتابوں کے ساتھ کفر کرنے کو درست گردانتا ہے ۔۔۔ اس دین پر فضیلت دی جا سکتی ہے جو اللہ رحمن کی عبادت، کھلے چھپے اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، بتوں اور جھوٹے خداؤں کے انکار، صلہ رحمی، تمام مخلوق حتیٰ کہ جانوروں کے ساتھ حسن سلوک، لوگوں کے درمیان عدل کا قیام، ہر خبیث چیز اور ظلم کی تحریم اور تمام اقوال و اعمال میں صدق پر مبنی ہے؟.... کیا یہ تفضیل محض ہذیان نہیں؟ ایسا کہنے والا شخص یا تو سب سے زیادہ جاہل یا سب سے کم عقل یا حق کے ساتھ سب سے زیادہ عناد رکھنے والا اور تکبر کا اظہار کرنے والا ہے۔ یہ فی الواقع ایسے ہی ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 51 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتمائدہالمائدة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید