النساء

نساء

176 آیاتمدنیپارہ 4

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 55

    فَمِنْهُم مَّنْ ءَامَنَ بِهِۦ وَمِنْهُم مَّن صَدَّ عَنْهُ ۚ وَكَفَىٰ بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا

    پھر ان میں سے بعض نے تو اس کتاب کو مانا اور بعض اس سے رک گئے[1] ، اور جہنم کا جلانا کافی ہے۔

    حواشی

    [1] یعنی بنو اسرائیل کو، جو حضرت ابراہیم (عليه السلام) کی ذریت اور آل میں سے ہیں، ہم نے نبوت بھی دی اور بڑی سلطنت وبادشاہی بھی۔ پھر بھی یہود کے یہ سارے لوگ ان پر ایمان نہیں لائے۔ کچھ ایمان لائے اور کچھ نے اعراض کیا۔ مطلب یہ ہے کہ اے محمد! (صلى الله عليه وسلم) اگر یہ آپ کی نبوت پر ایمان نہیں لا رہے ہیں تو کوئی انوکھی بات نہیں ہے، ان کی تو تاریخ ہی نبیوں کی تکذیب سے بھری ہوئی ہے حتیٰ کہ اپنی نسل کے نبیوں پر بھی یہ ایمان نہیں لائے۔ بعض نے ”آمَنَ بِهِ“ میں ”ھا“ کا مرجع نبی (صلى الله عليه وسلم) کو بتلایا ہے یعنی ان یہود میں سے کچھ نبی (صلى الله عليه وسلم) پر ایمان لائے اور کچھ نے انکارکیا۔ ان منکرین نبوت کا انجام جہنم ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 55 کی تفسیر

    [55] ﴿ فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِهٖ ﴾ ’’پھر ان میں سے بعض اس پر ایمان لائے۔‘‘ یعنی ان میں سے بعض لوگ محمدeپر ایمان لائے۔ اس لیے وہ دنیاوی خوش بختی اور اخروی فلاح سے بہرہ ور ہوئے ﴿ وَمِنْهُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْهُ ﴾ اور ان میں سے بعض نے محض عناد، بغاوت اور اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکنے کے لیے اس سے اعراض کیا اس لیے وہ دنیا میں بدبختی اور مصائب کا شکار ہو گئے۔ جو ان کے گناہوں کے اثرات ہیں۔ ﴿ وَكَ٘فٰى بِجَهَنَّمَ سَعِیْرًا﴾ ’’اور (ان کے لیے) دہکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے‘‘ یہ آگ یہود و نصاریٰ اور دیگر اقسام کے کفار پر بھڑکائی جائے گی، جنھوں نے اللہ تعالیٰ کا اور اس کے انبیاءoکا انکار کیا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 55 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتمائدہالمائدة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید