النساء

نساء

176 آیاتمدنیپارہ 4

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 59

    يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ وَأُو۟لِى ٱلْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَـٰزَعْتُمْ فِى شَىْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا

    اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی[1] ۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے۔ یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے[2]۔

    حواشی

    [1] ”اولو الامر“ (اپنے میں سے اختیار والے) سے مراد بعض کے نزدیک امرا وحکام اور بعض کے نزدیک علماء وفقہاء ہیں مفہوم کے اعتبار سے دونوں ہی مراد ہو سکتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اصل اطاعت تو اللہ تعالیٰ ہی کی ہے کیونکہ ”أَلا لَهُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ“ ( الاعراف: 54) خبردار مخلوق بھی اسی کی ہے، حکم بھی اسی کا ہے ”إِنِ الْحُكْمُ إِلا لِلَّهِ“ (يوسف: 40) حکم صرف اللہ ہی کا ہے۔ لیکن چونکہ رسول (صلى الله عليه وسلم) منشاء الٰہی ہی کا مظہر اور اس کی مرضیات کا نمائندہ ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ رسول (صلى الله عليه وسلم) کے حکم کو بھی مستقل طور پر واجب الاطاعت قرار دیا اور فرمایا کہ رسول (صلى الله عليه وسلم) کی اطاعت دراصل اللہ کی اطاعت ہے۔ ”مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ“ (النساء: 80) جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حدیث بھی اسی طرح دین کا ماخذ ہے جس طرح قرآن کریم۔ تاہم امراء وحکام کی اطاعت بھی ضروری ہے۔ کیونکہ وہ یا تو اللہ اور اس کے رسول (صلى الله عليه وسلم) کے احکام کا نفاذ کرتے ہیں یا امت کے اجتماعی مصالح کا انتظام اور نگہداشت کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ امرا وحکام کی اطاعت اگرچہ ضروری ہے لیکن وہ علی الاطلاق نہیں بلکہ مشروط ہے اللہ ورسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کے ساتھ۔ اسی لئے ”أَطِيعُوا اللهَ“ کے بعد ”أَطِيعُوا الرَّسُولَ“ تو کہا کیونکہ یہ دونوں اطاعتیں مستقل اور واجب ہیں لیکن ”أَطِيعُوا أُولِي الأَمْر“ ِنہیں کہا کیونکہ أُولِي الأَمْرِکی اطاعت مستقل نہیں اور حدیث میں بھی کہا گیا ہے ”لا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيةِ الْخَالِقِ“ (وقال الألباني حديث صحيح- مشكاة نمبر 3696، في لفظ لمسلم: ”لا طاعة في معصية الله“، كتاب الإمارة باب وجوب طاعة الأمر في غير معصية حديث نمبر 1840، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ) (صحيح بخاري كتاب الأحكام باب نمبر 4) ”السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ لِلإِمَامِ مَا لَمْ تَكُنْ مَعْصِيَةً“ معصیت میں اطاعت نہیں، اطاعت صرف معروف میں ہے۔ یہی حال علماء وفقہاء کا بھی ہے۔ (اگر اولو الامر میں ان کو بھی شامل کر لیا جائے) یعنی ان کی اطاعت اس لئے کرنی ہوگی کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام وفرمودات بیان کرتے ہیں اور اس کے دین کی طرف ارشاد وہدایت اور رہنمائی کا کام کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ علماء وفقہاء بھی دینی امور ومعاملات میں حکام کی طرح یقیناً مرجعِ عوام ہیں۔ لیکن ان کی اطاعت بھی صرف اس وقت تک کی جائے گی جب تک کہ عوام کو صرف اللہ اور اس کے رسول (صلى الله عليه وسلم) کی بات بتلائیں لیکن اگر وہ اس سے انحراف کریں تو عوام کے لئے ان کی اطاعت بھی ضروری نہیں بلکہ انحراف کی صورت میں جانتے بوجھتے ان کی اطاعت کرنا سخت معصیت اور گناہ ہے۔ [2] اللہ کی طرف لوٹانے سے مراد، قرآن کریم اور الرسول (صلى الله عليه وسلم) سے مراد اب حدیث رسول ہے۔ یہ تنازعات کے ختم کرنے کے لئے ایک بہترین اصول بتلا دیا گیا ہے۔ اس اصول سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ کسی تیسری شخصیت کی اطاعت واجب نہیں۔ جس طرح تقلید شخصی یا تقلید معین کے قائلین نے ایک تیسری اطاعت کو واجب قرار دے رکھا ہے اور اسی تیسری اطاعت نے، جو قرآن کی اس آیت کے صریح مخالف ہے، مسلمانوں کو امت متحدہ کی بجائے امت منتشرہ بنا رکھا ہے اور اس کے اتحاد کو تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 59 کی تفسیر

    [59] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور یہ اطاعت اللہ اور اس کے رسول کے مشروع کردہ واجبات و مستحبات پر عمل اور ان کی منہیات سے اجتناب ہی کے ذریعے سے ہو سکتی ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے اولو الامر کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ اولو الامر سے مراد لوگوں پر مقرر کردہ حکام، امراء اور اصحاب فتویٰ ہیں کیونکہ لوگوں کے دینی اور دنیاوی معاملات اس وقت تک درست نہیں ہو سکتے جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولeکی فرماں برداری کرتے ہوئے اولو الامر کی اطاعت نہیں کرتے مگر اس شرط کے ساتھ کہ اولو الامر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم نہ دیں اور اگر وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دیں تو خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی فرماں برداری ہرگز جائز نہیں۔ شاید یہی سر نہاں ہے کہ اولو الامر کی اطاعت کے حکم کے وقت فعل کو حذف کر دیا گیا ہے اور اولو الامر کی اطاعت کو رسول کی اطاعت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے کیونکہ رسول اللہeصرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حکم دیتے ہیں لہٰذا جو کوئی رسولeکی اطاعت کرتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔ رہے اولو الامر تو ان کی اطاعت کے لیے یہ شرط عائد کی ہے کہ ان کا حکم معصیت نہ ہو۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ لوگ اپنے تمام تنازعات کو، خواہ یہ اصول دین میں ہوں یا فروع دین میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹائیں۔ یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول کی طرف ۔ کیونکہ تمام اختلافی مسائل کا حل قرآن و سنت میں موجود ہے یا تو ان اختلافات کا حل صراحت کے ساتھ قرآن اور سنت میں موجود ہوتا ہے یا ان کے عموم، ایماء، تنبیہ، مفہوم مخالف اور عموم معنی میں ان اختلافات کا حل موجود ہوتا ہے اور عموم معنی میں اس کے مشابہہ مسائل میں قیاس کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ کتاب اللہ اور رسول اللہeکی سنت پر دین کی بنیاد قائم ہے ان دونوں کو حجت تسلیم کیے بغیر ایمان درست نہیں۔ اپنے تنازعات کو قرآن و سنت کی طرف لوٹانا شرط ایمان ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ﴾ ’’اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی نزاعی مسائل کو قرآن و سنت پر پیش نہیں کرتا وہ حقیقی مومن نہیں بلکہ وہ طاغوت پر ایمان رکھتا ہے۔ جیسا کہ بعد والی آیت میں ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی تنازعات کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹانا ﴿ خَیْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِیْلًا﴾ ’’یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولeکا فیصلہ سب سے بہتر اور سب سے زیادہ عدل و انصاف کا حامل اور لوگوں کے دین و دنیا اور ان کی عاقبت کی بھلائی کے لیے سب سے اچھا فیصلہ ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 59 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتمائدہالمائدة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید