غافر

غافر

85 آیاتمکیپارہ 24

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 15

    رَفِيعُ ٱلدَّرَجَـٰتِ ذُو ٱلْعَرْشِ يُلْقِى ٱلرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِۦ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ لِيُنذِرَ يَوْمَ ٱلتَّلَاقِ

    بلند درجوں واﻻ عرش کامالک وه اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے وحی نازل فرماتا ہے[1] ، تاکہ وه ملاقات کے دن سے ڈرائے.

    حواشی

    [1] رُوحٌ سے مراد وحی ہے جو وہ بندوں میں سے ہی کسی کو رسالت کے لیے چن کر، اس پر نازل فرماتا ہے، وحی کو روح سے اس لیے تعبیر فرمایا کہ جس طرح روح میں انسانی زندگی کی بقا و سلامتی کا راز مضمر ہے۔ اس طرح وحی سے بھی ان انسانی قلوب میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے جو پہلے کفروشک کی وجہ سے مردہ ہوتے ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 15 کی تفسیر

    [15] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے جلال و کمال کا ذکر فرمایا جو عبادت میں اخلاص کا تقاضا کرتا ہے ، چنانچہ فرمایا: ﴿رَفِیْعُ الدَّرَجٰؔتِ ذُو الْ٘عَرْشِ ﴾ ’’وہ درجاتِ عالی کا مالک اور صاحب عرش ہے۔‘‘ یعنی وہ بلند اور اعلیٰ ہے جو عرش پر مستوی ہے، عرش اس کے لیے مختص ہے، اس کے درجات بہت بلند ہیں وہ ان کی وجہ سے مخلوقات سے علیحدہ ہے اور ان کے ساتھ اس کامرتبہ بلند ہے۔ اس کے اوصاف جلیل القدر اور اس کی ذات اس سے بلندتر ہے کہ اس کا قرب حاصل کیا جائے سوائے پاک اور طاہر و مطہر عمل کے ذریعے سے اور وہ ہے اخلاص جو مخلص مومنین کے درجات کو بلند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کے قریب کرتا ہے اور تمام مخلوق پر فوقیت عطا کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رسالت اور وحی کی نعمت کا ذکر کرتا ہے، فرمایا: ﴿یُلْ٘قِی الرُّوْحَ ﴾ ’’وہ نازل کرتا ہے روح۔‘‘ یعنی وحی، جو قلب و روح کے لیے وہی حیثیت رکھتی ہے جو اجساد کے لیے ارواح کی ہے۔ جیسے روح کے بغیر بدن زندہ ہوتا ہے نہ زندہ رہ سکتا ہے، اسی طرح روح اور قلب، روحِ وحی کے بغیر درست رہ سکتے ہیں نہ فلاح سے بہرہ مند ہو سکتے ہیں۔ ﴿یُلْ٘قِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ﴾ ’’اپنے حکم سے وحی بھیجتا ہے۔‘‘ جس میں بندوں کی منفعت اور مصلحت ہے ﴿عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ﴾ ’’اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے۔‘‘ اس سے اللہ تعالیٰ کے رسول مراد ہیں جن کو اس نے فضیلت بخشی اور انھیں اپنی وحی اور بندوں کو دعوت دینے کے لیے مختص فرمایا۔ انبیاء و مرسلین مبعوث کرنے کا فائدہ بندوں کے لیے، ان کے دین، دنیا اور آخرت میں سعادت کا حصول اور ان کے دین، دنیا اور آخرت میں بدبختی کو دور کرنا ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿لِیُنْذِرَ ﴾ تاکہ ان لوگوں کو ڈرائے جن کی طرف وحی بھیجی گئی ہے۔ ﴿یَوْمَ التَّلَاقِ﴾ ’’ملاقات کے دن سے‘‘ یعنی وہ اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ملاقات کے دن سے ڈرائے اور انھیں ان اسباب کو تیار کرنے کے لیے آمادہ کرے جو ان کو اس صورت حال سے نجات دیتے ہیں جس میں وہ گھرے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس دن کو (یَوْمَ التَّلَاقْ) کے نام سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس دن خالق اور مخلوق کی ملاقات ہو گی، مخلوق ایک دوسرے سے ملاقات کرے گی اور عمل کرنے والے اپنے اعمال اور ان کی جزا کا سامنا کریں گے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 15 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتفصّلتفصلت

غلطی کی اطلاع دیں

مزید