غافر

غافر

85 آیاتمکیپارہ 24

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 18

    وَأَنذِرْهُمْ يَوْمَ ٱلْـَٔازِفَةِ إِذِ ٱلْقُلُوبُ لَدَى ٱلْحَنَاجِرِ كَـٰظِمِينَ ۚ مَا لِلظَّـٰلِمِينَ مِنْ حَمِيمٍ وَلَا شَفِيعٍ يُطَاعُ

    اور انہیں بہت ہی قریب آنے والی[1] (قیامت سے) آگاه کر دیجئے، جب کہ دل حلق تک پہنچ جائیں گے اور سب خاموش ہوں گے[2]، ﻇالموں کا نہ کوئی دلی دوست ہوگا نہ سفارشی، کہ جس کی بات مانی جائے گی.

    حواشی

    [1] آزِفَةٌ کے معنی ہیں قریب آنے والی۔ یہ قیامت کا نام ہے، اس لیے کہ وہ بھی قریب آنے والی ہے۔ [2] یعنی اس دن خوف کی وجہ سے دل اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گے۔ كَاظِمِينَ غم سے بھرے ہوئے، یا روتے ہوئے، یا خاموش، اس کےتینوں معنی کیے گئے ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 18 کی تفسیر

    [18] اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیe سے فرماتا ہے: ﴿وَاَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ ﴾ ’’(اے نبی!) انھیں (قریب) آپہنچنے والے دن سے ڈرائیے‘‘ یعنی انھیں قیامت کے دن سے ڈرائیے جو بہت قریب ہے، اس کے اہوال اور اس کے زلزلوں کے پہنچنے کا وقت ہو گیا ہے ﴿اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ ﴾ ’’جبکہ دل گلوں تک آرہے ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کے دل ہوا ہو جائیں گے۔ خوف اور کرب سے دل گلے میں اٹک جائیں گے اور آنکھیں اوپر اٹھی کی اٹھی رہ جائیں گی ﴿كٰظِمِیْنَ ﴾ وہ کلام نہیں کر سکیں گے سوائے اس شخص کے، جسے رحمٰن اجازت دے اور وہ درست بات کہے۔ وہ دلوں میں چھپے ہوئے خوف اور دہشت کو زبان پر نہیں لائیں گے۔ ﴿مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ ﴾ اور ظالموں کا کوئی قریبی اور ساتھی نہیں ہو گا۔ ﴿وَّلَا شَ٘فِیْعٍ یُّطَاعُ﴾ ’’نہ کوئی ایسا سفارشی ہو گا جس کی بات مانی جائے‘‘ کیونکہ اگر سفارشیوں کی سفارش کو فرض کر بھی لیا جائے تب بھی یہ سفارشی شرک کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والوں کی سفارش نہیں کریں گے۔ اگر یہ سفارش کریں بھی، تو اللہ تعالیٰ ان کی سفارش پر راضی ہو گا نہ اس کو قبول کرے گا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 18 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتفصّلتفصلت

غلطی کی اطلاع دیں

مزید