غافر

غافر

85 آیاتمکیپارہ 24

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 22

    ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانَت تَّأْتِيهِمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ فَكَفَرُوا۟ فَأَخَذَهُمُ ٱللَّهُ ۚ إِنَّهُۥ قَوِىٌّ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

    یہ اس وجہ سے کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر معجزے لے لے کرآتے تھے تو وه انکار کر دیتے تھے[1] ، پس اللہ انہیں پکڑ لیتا تھا۔ یقیناً وه طاقتور اور سخت عذاب واﻻ ہے.

    حواشی

    [1] یہ ان کی ہلاکت کی وجہ بیان کی گئی ہے، اور وہ ہے اللہ کی آیتوں کا انکار اور پیغمبروں کی تکذیب۔ اب سلسلۂ نبوت و رسالت تو بند ہے تاہم آفاق وانفس میں بے شمار آیات الٰہی بکھری اور پھیلی ہوئی ہیں۔ علاوہ ازیں وعظ و تذکیر اور دعوت و تبلیغ کے ذریعے سے علما اور داعیان حق ان کی وضاحت اور نشان دہیں کے لیے موجود ہیں۔ اس لیے آج بھی جو آیات الٰہی سے اعراض اور دین و شریعت سے غفلت کرے گا، اس کا انجام مکذبین اور منکرین رسالت سے مختلف نہیں ہوگا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 21 - 22 کی تفسیر

    [21، 22] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ﴾ ’’کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں؟‘‘ یعنی انھوں نے اپنے قلوب و ابدان کے ساتھ، گزشتہ قوموں کے آثار میں غوروفکر کرنے اور ان سے عبرت حاصل کرنے کے لیے چل پھر کر نہیں دیکھا؟ ﴿فَیَنْظُ٘رُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ ﴾ ’’تاکہ وہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا؟‘‘ یعنی جو ان سے پہلے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والے تھے۔ وہ دیکھیں گے کہ ان کا بدترین انجام ہوا وہ تباہ و برباد کر دیے گئے اور انھیں فضیحت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا، حالانکہ ﴿كَانُوْا ﴾ وہ ان لوگوں سے زیادہ طاقت ور تھے، یعنی وہ تعداد، سازوسامان اور جسمانی طور پر بہت طاقتور تھے۔ ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ بہت زیادہ تھے، ﴿اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ ﴾ ’’زمین میں (چھوڑے ہوئے) آثار کے لحاظ سے‘‘ یعنی عمارات اور باغات وغیرہ کے لحاظ سے انھوں نے بہت زبردست آثار زمین میں چھوڑے۔ آثار کی قوت آثار چھوڑنے والے کی قوت اور اس کی شان و شوکت پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں پکڑ لیا‘‘ اپنے عذاب کے ساتھ ﴿بِذُنُوْبِهِمْ ﴾ ’’ان کے گناہوں کی وجہ سے‘‘ جبکہ انھوں نے گناہوں پر اصرار کیا اور ان پر جمے رہے ۔ ﴿اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ﴾ ’’بے شک وہ صاحب قوت اور سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ کی قوت کے سامنے ان کی قوت کسی کام نہ آئی بلکہ قوم عاد، سب سے طاقتور قوم تھی، جو کہا کرتے تھے: ﴿مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّ٘ةً ﴾ (حٰمٓ السجدۃ: 41؍15) ’’ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہوا بھیجی جس نے ان کے قویٰ مضمحل کر دیے اور ان کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 22 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتفصّلتفصلت

غلطی کی اطلاع دیں

مزید