غافر

غافر

85 آیاتمکیپارہ 24

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 25

    فَلَمَّا جَآءَهُم بِٱلْحَقِّ مِنْ عِندِنَا قَالُوا۟ ٱقْتُلُوٓا۟ أَبْنَآءَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ وَٱسْتَحْيُوا۟ نِسَآءَهُمْ ۚ وَمَا كَيْدُ ٱلْكَـٰفِرِينَ إِلَّا فِى ضَلَـٰلٍ

    پس جب ان کے پاس (موسیٰ علیہ السلام) ہماری طرف سے (دین) حق کولے کر آئے توانہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ جوایمان والے ہیں ان کے لڑکوں کو تو مار ڈالو اور ان کی لڑکیوں کو زنده رکھو[1] اور کافروں کی جو حیلہ سازی ہے وه غلطی میں ہی ہے.

    حواشی

    [1] فرعون یہ کام پہلے بھی کر رہا تھا تاکہ وہ بچہ پیدا نہ ہو، جو نجومیوں کی پیش گوئی کےمطابق، اس کی بادشاہ کےلیے خطرے کا باعث تھا۔ یہ دوبارہ حکم اس نے حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی تذلیل و اہانت کے لیے دیا، نیز تاکہ بنی اسرائیل موسیٰ (عليه السلام) کے وجود کو اپنے لیے مصیبت اور نحوست کاباعث سمجھیں،جیساکہ فی الواقع انہوں نے کہا، «أُوذِينَا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَأْتِيَنَا وَمِنْ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا» (الأعراف: 129) ”اے موسیٰ (عليه السلام) تیرے آنے سے قبل بھی ہم اذیتوں سے دوچار تھے اور تیرے آنے کے بعد بھی ہمارا یہی حال ہے“۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 25 کی تفسیر

    [25] ﴿فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا ﴾ ’’پس جب وہ ہماری طرف سے حق لے کر ان کے پاس پہنچے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے معجزات کے ذریعے سے حضرت موسیٰu کی تائید فرمائی جو مکمل اطاعت کے موجب تھے، مگر انھوں نے اطاعت نہ کی۔ انھوں نے مجرد ترک اطاعت اور روگردانی کرتے ہوئے ان کے انکار اور باطل کے ذریعے سے ان کی مخالفت ہی پر اکتفا نہ کیا بلکہ ان کی جرأت کا یہ حال تھا کہ کہنے لگے: ﴿ اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَؔ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَاسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَمَا كَیْدُ الْ٘كٰفِرِیْنَ ﴾ ’’جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رہنے دو اور نہیں ہے کافروں کی چال‘‘ وہ یہ سازش کرنے ہی والے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ ان کے بیٹوں کو قتل کر دیں گے تو یہ طاقتور نہیں ہو سکیں گے اور یہ ان کی غلامی میں مطیع بن کر رہیں گے، لہٰذا نہ ہوئی ان کی چال ﴿اِلَّا فِیْ ضَلٰ٘لٍ ﴾ ’’مگر ناکام‘‘ کیونکہ ان کا مقصد پورا نہیں ہوا تھا بلکہ ان کے مقاصد کے برعکس نتیجہ حاصل ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر دیا اور تباہ و برباد کر دیا۔ قاعدہ: اس نکتے پر غور کیجیے جو کتاب اللہ میں کثرت سے پیش آتا ہے، جب آیات کریمہ کا سیاق کسی معین قصہ یا معین چیز میں ہو اور اللہ تعالیٰ اس معین قصہ پر کوئی حکم لگانا چاہتا ہو تو وہ اس حکم کو اس قصہ کے ساتھ مختص کر کے ذکر نہیں فرماتا بلکہ اسے اس کے وصف عام پر معلق کرتا ہے تاکہ یہ حکم عام ہو اور اس میں وہ صورت بھی شامل ہو جس کے لیے کلام لایا گیا ہے اور اس معین قصے کے ساتھ حکم کے اختصاص کی بنا پر پیدا ہونے والا وہم ختم ہو جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے (وَمَا کَیْدُھُمْ إِلَّا فِی ضَلَالٍ) نہیں کہا بلکہ فرمایا: ﴿وَمَا كَیْدُ الْ٘كٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰ٘لٍ ﴾

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 25 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتفصّلتفصلت

غلطی کی اطلاع دیں

مزید