غافر

غافر

85 آیاتمکیپارہ 24

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 27

    وَقَالَ مُوسَىٰٓ إِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُم مِّن كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ ٱلْحِسَابِ

    موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں اپنے اور تمہارے رب کی پناه میں آتا ہوں ہر اس تکبر کرنے والے شخص (کی برائی) سے جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا.[1]

    حواشی

    [1] حضرت موسیٰ (عليه السلام) کےعلم میں جب یہ بات آئی کہ فرعون مجھے قتل کرنےکا ارادہ رکھتا ہے تو انہوں نے اللہ سے اس کے شر سے بچنے کے لیے دعا مانگی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب دشمن کا خوف ہوتا تو یہ دعا پڑھتے ”اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهُمْ وَنعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ“ (مسند أحمد 4 /415) ”اے اللہ ! ہم تجھ کو ان کے مقابلے میں کرتے ہیں اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ طلب کرتےہیں“۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 27 کی تفسیر

    [27] ﴿وَقَالَ مُوْسٰۤى ﴾ ’’موسیٰ(u) نے کہا:‘‘ جب فرعون نے یہ بڑہانکی، جس کی موجب اس کی سرکشی تھی اور سرکشی پر مبنی یہ بات کہنے میں فرعون نے اپنی قوت و اقتدار سے مدد لی تو حضرت موسیٰu نے اپنے رب سے مدد طلب کرتے ہوئے کہا: ﴿اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّكُمْ ﴾ ’’میں اپنے اور تمھارے رب کی پناہ لے چکا ہوں۔‘‘ یعنی میں اس کی ربوبیت کی پناہ مانگتا ہوں، جس کے ذریعے سے میرے رب نے تمام امور کی تدبیر کی ہے۔ ﴿مِّنْ كُ٘لِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ ﴾ ’’ہر متکبر سے جو حساب کے دن پر ایمان نہیں لاتا۔‘‘ یعنی جس کا تکبر اور یوم حساب پر عدم ایمان، اسے شر اور فساد پر آمادہ کرتا ہے۔ اس عموم میں فرعون وغیرہ بھی داخل ہے جیسا کہ قریب ہی گزشتہ سطور میں یہ قاعدہ گزر چکا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے حضرت موسیٰu کو یوم حساب کے منکر ہر متکبر سے محفوظ و مامون رکھا اور آپ کو ایسے اسباب مہیا فرمائے جن کی بنا پر فرعون اور اس کے درباریوں کا شر آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔ اس میں فرعون وغیرہ سبھی شامل ہیں جیسا کہ سابقہ ’’قاعدہ‘‘ میں مذکور ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف وکرم سے ہر اس متکبر سے آپ کی حفاظت فرمائی جو یوم الحساب پر ایمان نہیں لاتا اور ایسے اسباب مہیا فرمایا جن کے ذریعے سے فرعون اور اس کے سرداروں کے شر سے محفوظ رہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 27 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتفصّلتفصلت

غلطی کی اطلاع دیں

مزید