غافر

غافر

85 آیاتمکیپارہ 24

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 36

    وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَـٰهَـٰمَـٰنُ ٱبْنِ لِى صَرْحًا لَّعَلِّىٓ أَبْلُغُ ٱلْأَسْبَـٰبَ

    فرعون نے کہا اے ہامان! میرے لیے ایک باﻻخانہ[1] بنا شاید کہ میں آسمان کے جو دروازے ہیں.

    حواشی

    [1] یہ فرعون کی سرکشی اور تمرد کا بیان ہے کہ اس نے اپنے وزیر ہامان کو ایک بلند عمارت بنانے کا حکم دیا تاکہ اس کے ذریعے سے وہ آسمان کے دروازوں تک پہنچ جائے۔ اسباب کے معنی دروازے، یا راستے کے ہیں۔ مزید دیکھیے القصص، آیت 28۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 36 - 37 کی تفسیر

    [36، 37] ﴿وَقَالَ فِرْعَوْنُ ﴾ فرعون نے حضرت موسیٰu کی مخالفت اور آپ کی اللہ رب العلمین، جو عرش پر مستوی اور مخلوق سے بلند ہے، کے اقرار کی طرف دعوت کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿یٰهَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا ﴾ ’’اے ہامان! میرے لیے ایک بلند عمارت تعمیر کراؤ ‘‘ یعنی ایک بہت عظیم الشان اور بہت بلند عمارت بناؤ، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میں دیکھ لوں ﴿اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰؔى وَاِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبً٘ا ﴾ ’’موسیٰ کے معبود کو اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔‘‘ میں موسیٰ کو اس کے اس دعوے میں جھوٹا سمجھتا ہوں کہ ہمارا کوئی رب ہے اور وہ آسمانوں کے اوپر ہے… مگر وہ چاہتا تھا کہ فرعون احتیاط سے کام لے کر معاملے کی خود خبر لے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر کرتے ہوئے، جس نے فرعون کو ایسا کرنے پر آمادہ کیا تھا… فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ٘﴾ ’’اور اسی طرح فرعون کے لیے اس کا برا عمل مزین کردیا گیا۔‘‘ شیطان اس کی بداعمالی کو سجاتا رہا، اس برے عمل کی طرف اسے دعوت دیتا رہا ،اس عمل کو خوبصورت اور نیک عمل بنا کر اس کے سامنے پیش کرتا رہا حتی کہ وہ اسے اچھا عمل سمجھنے لگا اور اس نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی اور اپنے اس عمل کے بارے میں اس طرح مناظرہ کرنے لگا جس طرح حق پرست مناظرہ کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ سب سے بڑا مفسد تھا۔ ﴿وَصُدَّ عَنِ السَّبِیْلِ ﴾ ’’اور راہ راست سے روک دیاگیا‘‘ اس باطل کے سبب سے جو اس کے سامنے مزین کیا گیا تھا، راہ حق سے روکا گیا۔ ﴿وَمَا كَیْدُ فِرْعَوْنَ ﴾ ’’اور نہیں تھا مکر فرعون کا۔‘‘ جس کے ذریعے سے اس نے حق کے خلاف سازش کی اور اس کے ذریعے سے لوگوں پر ظاہر کیا کہ اس کا موقف حق اور حضرت موسیٰu کا موقف باطل ہے۔ ﴿اِلَّا فِیْ تَبَابٍ ﴾ ’’مگر تباہی کا۔‘‘ یعنی خسارے اور ہلاکت کا شکار ہو گا اور یہ سازش فرعون کو دنیا و آخرت میں بدبختی کے سوا کچھ فائدہ نہ دے گی۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 36 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتفصّلتفصلت

غلطی کی اطلاع دیں

مزید