غافر

غافر

85 آیاتمکیپارہ 24

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 44

    فَسَتَذْكُرُونَ مَآ أَقُولُ لَكُمْ ۚ وَأُفَوِّضُ أَمْرِىٓ إِلَى ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ بَصِيرٌۢ بِٱلْعِبَادِ

    پس آگے چل کر تم میری باتوں کو یاد کرو گے[1] میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں[2]، یقیناً اللہ تعالیٰ بندوں کا نگراں ہے.[3]

    حواشی

    [1] عنقریب وہ وقت آئے گا جب میری باتوں کی صداقت، اور جن باتوں سےروکتا تھا،ان کی شناعت تم پر واضح ہو جائےگی، پھر تم ندامت کا اظہار کرو گے، مگر وہ وقت ایسا ہوگا کہ ندامت بھی کوئی فائدہ نہیں دےگی۔ [2] یعنی اسی پر بھروسہ کرتا اور اسی سے ہر وقت استعانت کرتا ہوں اور تم سے بیزاری اور قطع تعلق کا اعلان کرتاہوں۔ [3] وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔ پس وہ مستحق ہدایت کو ہدایت سے نوازتا اور ضلالت کا استحقاق رکھنے والے کو ضلالت سے ہمکنار کرتا ہے۔ ان امور میں جو حکمتیں ہیں، ان کو وہی خوب جانتا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 44 کی تفسیر

    [44] جب اس شخص نے ان کی خیرخواہی کی اور ان کو برے انجام سے ڈرایا اور انھوں نے اس کی اطاعت کی نہ اس کی بات مانی، تو اس نے ان سے کہا: ﴿فَسَتَذْكُرُوْنَ۠ مَاۤ اَ٘قُوْلُ لَكُمْ ﴾ ’’جو کچھ میں تمھیں کہہ رہا ہوں عنقریب تم اسے یاد کرو گے۔‘‘ یعنی تم میری اس خیرخواہی کو یاد کرو گے اور اس خیرخواہی کو قبول نہ کرنے کا انجام خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے جب تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو گا اور تم اللہ تعالیٰ کے بے پایاں ثواب سے محروم کر دیے جاؤ گے۔ ﴿وَاُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تو اپنا معاملہ اللہ ہی کے سپرد کرتا ہوں۔‘‘ یعنی میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں اور اپنے تمام امور اسی پر چھوڑتا ہوں۔ میں اپنے مصالح میں اور اس ضرر کو دور کرنے میں، جو تمھاری طرف سے یا کسی اور کی طرف سے لاحق ہو سکتا ہے، اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ﴾ ’’یقینا اللہ اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے۔‘‘ وہ ان کے تمام احوال کو اور جس چیز کے وہ مستحق ہیں خوب جانتا ہے۔ وہ میرے حال اور میری کمزوری کو بھی جانتا ہے۔ وہ تم سے میری حفاظت کرے گا اور تمھارے شر کے مقابلے میں میرے لیے کافی ہو گا۔ تم اس کے ارادے اور اس کی مشیت کے بغیر کوئی تصرف نہیں کر سکتے۔ اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں بھی اس کی کوئی حکمت ہو گی اور یہ بھی اس کے ارادے اور مشیت سے صادر ہو گا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 44 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتفصّلتفصلت

غلطی کی اطلاع دیں

مزید