غافر

غافر

85 آیاتمکیپارہ 24

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 5

    كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَٱلْأَحْزَابُ مِنۢ بَعْدِهِمْ ۖ وَهَمَّتْ كُلُّ أُمَّةٍۭ بِرَسُولِهِمْ لِيَأْخُذُوهُ ۖ وَجَـٰدَلُوا۟ بِٱلْبَـٰطِلِ لِيُدْحِضُوا۟ بِهِ ٱلْحَقَّ فَأَخَذْتُهُمْ ۖ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ

    قوم نوح نے اور ان کے بعد کے گروہوں نے بھی جھٹلایا تھا۔ اور ہر امت نے اپنے رسول کو گرفتار کر لینے کا اراده کیا[1] اور باطل کے ذریعہ کج بحثیاں کیں، تاکہ ان سے حق کو بگاڑ دیں[2] پس میں نے ان کو پکڑ لیا، سو میری طرف سے کیسی سزا ہوئی.[3]

    حواشی

    [1] تاکہ اسے قید یا قتل کردیں یا سزا دیں۔ [2] یعنی اپنے رسولوں سے انہوں نے جھگڑاکیا، جس سے مقصود حق بات میں کیڑے نکالنا اور اسے کمزور کرنا تھا۔ [3] چنانچہ میں نے ان حامیان باطل کو اپنے عذاب کی گرفت میں لے لیا،پس تم دیکھ لو ان کےحق میں میرا عذاب کس طرح آیا اور کیسے انہیں حرف غلط کی طرح مٹا دیا گیا یا نہیں نشان عبرت بنا دیا گیا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 5 کی تفسیر

    [5] پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ڈرایا ہے جو آیات الٰہی کے ابطال کے لیے جھگڑتے اور بحث مباحثہ کرتے ہیں۔ جیسا کہ اس سے پہلے گمراہ قومیں کیا کرتی تھیں ، مثلاً: ﴿قَوْمُ نُوْحٍ ﴾ ’’قوم نوح‘‘ اور قوم عاد ﴿وَّالْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ ﴾ ’’اور ان کے بعد کی دوسری جماعتوں نے (بھی جھٹلایا)‘‘ جو حق کو نیچا دکھانے اور باطل کی مدد کرنے کے لیے جمع ہو گئے ﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ ان کا یہ حال ہو گیا اور وہ اس بات پر اکٹھے ہو گئے کہ ﴿هَمَّتْ كُ٘لُّ اُمَّةٍۭ ﴾ ’’ہر گروہ نے ارادہ کر لیا‘‘ مختلف گروہوں میں سے ﴿بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ ﴾ ’’کہ وہ اپنے رسول کو گرفتار کرلیں۔‘‘ یعنی اس کو قتل کردیں یہ انبیاء و مرسلین کے خلاف، جو اہل خیر کے قائد تھے، بدترین ہتھکنڈا تھا، جو صریح حق پر تھے جس میں کوئی شک وشبہ نہ تھا۔ انھوں نے انبیاء کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ کیا اس بغاوت، گمراہی اور بدبختی کے بعد اس عذاب عظیم کے سوا کچھ رہ جاتا ہے جس میں سے یہ کبھی نہ نکلیں گے؟ بنابریں ان کے لیے دنیاوی اور اخروی عذاب کے بارے میں فرمایا: ﴿فَاَخَذْتُهُمْ ﴾ ’’ پھر میں نے انھیں پکڑ لیا۔‘‘ یعنی ان کو تکذیب حق اور حق کے خلاف اکٹھے ہونے کے سبب سے اپنی گرفت میں لے لیا ﴿فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ ﴾ ’’ پھر (دیکھ لو) ہماری سزا کیسی سخت تھی۔‘‘ یہ سخت ترین اور بدترین عذاب تھا، یہ ایک زور دار آواز تھی، پتھروں کو اڑاتی ہوئی طوفانی ہوا تھی، یا اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا اور ان کو اپنی گرفت میں لے لیا یا سمندر کو حکم دیا اور ان کو غرق کر دیا، تب یہ مردہ پڑے کے پڑے رہ گئے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 5 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتفصّلتفصلت

غلطی کی اطلاع دیں

مزید