غافر

غافر

85 آیاتمکیپارہ 24

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 65

    هُوَ ٱلْحَىُّ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَٱدْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ ۗ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ

    وه زنده ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم خالص اس کی عبادت کرتے ہوئے اسے پکارو[1] ، تمام خوبیاں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے.

    حواشی

    [1] یعنی جب سب کچھ کرنے والا اور دینے والا وہی ہے۔ دوسرا کوئی، بنانے میں شریک ہے نہ اختیارات میں۔ تو پھر عبادت کامﺴتﺤﻖ بھی صرف ایک اللہ ہی ہے، دوسرا کوئی اس میں شریک نہیں ہو سکتا۔ استمداد واستغاثہ بھی اسی سے کرو کہ و ہی سب کی فریادیں اور التجائیں سننے پر قادر ہے۔ دوسرا کوئی بھی مافوق الاسباب طریقے سے کسی کی بات سننے پر قادر ہی نہیں ہے، جب یہ بات ہے تو دوسرے مشکل کشائی اور حاجت روائی کس طرح کرسکتے ہیں؟

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 65 کی تفسیر

    [65] ﴿هُوَ الْحَیُّ ﴾ ’’وہی زندہ ہے‘‘ جو حیات کامل کا مالک ہے۔ یہ حیات صفات ذاتیہ کو مستلزم ہے، جس کے بغیر حیات مکمل نہیں ہوتی، مثلاً: سمع، بصر، قدرت، علم، کلام اور دیگر صفاتِ کمال اور نعوتِ جلال۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس کے سواکوئی الٰہ نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ ﴿فَادْعُوْهُ ﴾ ’’پس تم اسی کو پکارو۔‘‘ یہ دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ دونوں کو شامل ہے۔ ﴿مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ﴾ ’’اسی لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی اپنی ہر عبادت، ہر دعا اور ہر عمل میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھو کیونکہ اخلاص ہی وہ چیز ہے جس کا حکم دیا گیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَمَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۙ۬ حُنَفَآءَ ﴾ (البینۃ: 98؍5) ’’ان کو صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ یکسو ہو کر دین کو صرف اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کریں۔‘‘ ﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ﴾ ’’ہر طرح کی تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے۔‘‘ یعنی تمام قولی محامد اور مدح و ثنا ، مثلاً: مخلوق کا اس کا ذکر کرتے ہوئے کلام کرنا، اور فعلی محامد اور مدح و ثنا جیسے اس کی عبادت کرنا یہ سب اللہ واحد کے لیے ہیں، جس کا کوئی شریک نہیں۔ کیونکہ وہ اپنے اوصاف و افعال اور مکمل نعمتیں عطا کرنے میں کامل ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 65 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتفصّلتفصلت

غلطی کی اطلاع دیں

مزید