فصلت

فصّلت

54 آیاتمکیپارہ 24

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 14

    إِذْ جَآءَتْهُمُ ٱلرُّسُلُ مِنۢ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّا ٱللَّهَ ۖ قَالُوا۟ لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَأَنزَلَ مَلَـٰٓئِكَةً فَإِنَّا بِمَآ أُرْسِلْتُم بِهِۦ كَـٰفِرُونَ

    ان کے پاس جب ان کے آگے پیچھے سے پیغمبر آئے کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتوں کو بھیجتا۔ ہم تو تمہاری رسالت کے بالکل منکر ہیں.[1]

    حواشی

    [1] یعنی چونکہ تم ہماری طرح ہی کے انسان ہو، اس لیے ہم تمہیں نبی نہیں مان سکتے۔ اللہ تعالیٰ کو نبی بھیجنا ہوتا تو فرشتوں کو بھیجتا نہ کہ انسانوں کو۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 13 - 14 کی تفسیر

    [13، 14] یعنی اگر یہ مکذبین اس کے باوجود بھی اعراض کریں، حالانکہ ان کے سامنے قرآن کے اوصاف حمیدہ اور رب عظیم کی صفات جلیلہ بیان کی جاچکی ہیں۔ ﴿فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً ﴾ ’’تو کہہ دیجیے: میں تمھیں ایسی کڑک سے ڈراتا ہوں‘‘ یعنی کہ میں تمھیں ایسے عذاب سے ڈراتا ہوں جو تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا۔ ﴿مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ﴾ ’’جیسی کڑک قوم عاد اور ثمود پر گری تھی۔‘‘ عاد اور ثمود یہ دو معروف قبیلے تھے، ان پر ٹوٹنے والے عذاب نے ان کو ملیامیٹ کر کے رکھ دیا تھا اور انھیں سخت سزا دی گئی، یہ سب کچھ ان کے ظلم اور کفر کے باعث تھا۔ ﴿اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ ﴾ ’’جب ان کے پاس رسول ان کے آگے سے اور پیچھے سے آئے۔‘‘ یعنی یکے بعد دیگرے لگاتار رسول آئے، ان تمام رسولوں کی دعوت ایک تھی۔ ﴿اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کا حکم دیتے تھے اور شرک سے روکتے تھے، مگر انھوں نے انبیائے کرام کی دعوت کو رد کرتے ہوئے ان کی تکذیب کی اور کہنے لگے: ﴿ لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَؔلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتے اتار دیتا۔‘‘ رہے تم، تو تم ہماری ہی طرح بشر ہو ﴿فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ ﴾ ’’پس تم جو دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے۔‘‘ اور یہ شبہ تمام کافر قوموں میں نسل در نسل متوارث چلا آرہا ہے اور یہ انتہائی کمزور شبہ ہے۔ کیونکہ رسالت کے لیے یہ شرط نہیں کہ جس کو رسول بنا کر بھیجا جا رہا ہو، وہ فرشتہ ہو ۔ رسالت کی شرط صرف یہ ہے کہ رسول ایسی دعوت پیش کرے جو اس کی صداقت کی دلیل ہو، لہٰذا اگر وہ کر سکتے ہوں تو ان کو چاہیے کہ وہ عقلی اور شرعی دلائل کی بنیاد پر جرح و قدح کریں، لیکن وہ ایسا نہیں کر سکیں گے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 14 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتشورىالشورى

غلطی کی اطلاع دیں

مزید