فصلت

فصّلت

54 آیاتمکیپارہ 24

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 16

    فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا صَرْصَرًا فِىٓ أَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِيقَهُمْ عَذَابَ ٱلْخِزْىِ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ وَلَعَذَابُ ٱلْـَٔاخِرَةِ أَخْزَىٰ ۖ وَهُمْ لَا يُنصَرُونَ

    بالﺂخر ہم نے ان پر ایک تیز و تند آندھی[1] منحوس دنوں میں[2] بھیج دی کہ انہیں دنیاوی زندگی میں ذلت کے عذاب کامزه چکھا دیں، اور (یقین مانو) کہ آخرت کا عذاب اس سے بہت زیاده رسوائی واﻻ ہے اور وه مدد نہیں کیے جائیں گے.

    حواشی

    [1] صَرْصَرٍ صُرَّةٌ (آواز) سے ہے یعنی ایسی ہوا جس میں سخت آواز تھی۔ یعنی نہایت تند اور تیز ہوا، جس میں آواز بھی ہوتی ہے۔ بعض کہتے ہیں یہ صرسے ہے، جس کے معنی برد (ٹھنڈک) کے ہیں۔ یعنی ایسی پالے والی ہوا جو آگ کی طرح جلا ڈالتی ہے۔ امام ابن کثیر فرماتےہیں وَالْحَقُّ أَنَّهَا مُتَّصِفَةٌ بِجَمِيعِ ذَلِكَ، وہ ہوا ان تمام ہی باتوں سے متصف تھی۔ [2] نَحِسَاتٌ کا ترجمہ، بعض نے متواتر پے در پے کا کیا ہے۔ کیونکہ یہ ہوا سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی بعض نے سخت، بعض نے گرد وغبار والے اور بعض نے نحوست والے کیا ہے، آخری ترجمہ کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ ایام جن میں ان پر سخت ہوا کا طوفان جاری رہا، ان کے لیے منحوس ثابت ہوئے۔ یہ نہیں کہ ایام ہی مطلقاً منحوس ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 16 کی تفسیر

    [16] اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی سزا دی جو ان کی اس قوت سے عین مناسبت رکھتی تھی جس کی وجہ سے وہ مغرور تھے۔﴿فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا ﴾ یعنی ہم نے ان پر انتہائی سخت طوفانی آندھی بھیجی جس میں بجلی کی کڑک کی مانند سخت ہولناک آواز تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس طوفانی ہوا کو ان پر ﴿ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍ١ۙ حُسُوْمًا١ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِیْهَا صَرْعٰى١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍ﴾ (الحاقۃ: 69؍7) ’’ لگاتار سات رات اور آٹھ دن تک چلائے رکھا، اس ہوا میں تو ان لوگوں کو اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھتا گویا وہ کھجوروں کے خالی تنے ہیں۔‘‘ ﴿نَحِسَاتٍ﴾یعنی یہ دن ان کے لیے منحوس تھا۔اس ہوا نے ان کو ہلاک کرکے تباہ و برباد کر دیا اور ان کی یہ حالت ہو گئی کہ ان کے اجڑے ہوئے گھروں کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ﴿لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ﴾ ’’تاکہ ہم انھیں دنیا کی زندگی ہی میں رسوائی کا عذاب چکھائیں‘‘ اس عذاب کی وجہ سے انھوں نے مخلوق میں فضیحت اور رسوائی کا سامنا کیا۔ ﴿وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَهُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ ﴾ ’’اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی ذلیل کرنے والا ہے، اور ان کی مددنہیں کی جائے گی۔‘‘ کوئی ان سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو روک سکے گا نہ وہ اپنے آپ کو کوئی فائدہ پہنچا سکیں گے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 16 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتشورىالشورى

غلطی کی اطلاع دیں

مزید