فصلت

فصّلت

54 آیاتمکیپارہ 24

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 23

    وَذَٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ ٱلَّذِى ظَنَنتُم بِرَبِّكُمْ أَرْدَىٰكُمْ فَأَصْبَحْتُم مِّنَ ٱلْخَـٰسِرِينَ

    تمہاری اسی بدگمانی نےجو تم نے اپنے رب سے کر رکھی تھی تمہیں ہلاک کر دیا[1] اور بالﺂخر تم زیاں کاروں میں ہو گئے.

    حواشی

    [1] یعنی تمہارے اس اعتقاد فاسد اور گمان باطل نے کہ اللہ کوہمارے بہت سےعملوں کاﻋلﻢ نہیں ہوتا، تمہیں ہلاکت میں ڈال دیا، کیونکہ اس کی وجہ سے تم ہر قسم کا گناہ کرنےمیں دلیر اور بےخوف ہو گئے تھے۔ اس کی شان نزول میں ایک روایت ہے حضرت عبداللہ بن مسعود (رضي الله عنه) فرماتے ہیں کہ خانہ کعبہ کے پاس دو قرشی اور ایک ثقفی یا دو ثقفی اور ایک قرشی جمع ہوئے۔ فربہ بدن، قلیل الفہم۔ ان میں سے ایک نے کہا کیا تم سمجھتے ہو، ہماری باتیں اللہ سنتا ہے؟ دوسرے نے کہا ہماری جہری باتیں سنتا ہے اور سری باتیں نہیں سنتا ایک اور نے کہا اگر وہ ہماری جہری (اونچی) باتیں سنتا ہے توہماری سری (پوشیدہ) باتیں بھی یقیناً سنتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے آیت وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ (نازل فرمائی،) صحیح بخاری، تفسیر سورۂ حم السجدۃ)۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 23 کی تفسیر

    [23] ان کا یہ گمان ان کی ہلاکت اور بدبختی کا سبب بنا۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ ﴾ ’’تمھارا یہی گمان جو تم نے اپنے رب کے متعلق کر رکھا تھا‘‘ یعنی تم نے اپنے رب کے بارے میں برا گمان کیا جو اس کے جلال کے لائق نہ تھا۔ ﴿اَرْدٰىكُمْ ﴾ ’’وہی تمھیں لے ڈوبا۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں ہلاک کر دیا۔ ﴿فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ ﴾ ’’ لہٰذا تم خسارہ پانے والوں میں ہوگئے۔‘‘ تم نے اپنے اعمال کے سبب سے، جن کا موجب اپنے رب کے بارے میں تمھارا براگمان تھا، اپنے آپ کو، اپنے گھر والوں اور اپنے دین کو خسارے میں ڈالا۔ بنابریں تم عذاب اور بدبختی کے مستحق ٹھہرے اور تمھارے لیے عذاب جہنم میں دائمی خلود واجب ہوا، یہ عذاب ایک گھڑی کے لیے بھی تم سے علیحدہ نہ ہو گا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 23 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتشورىالشورى

غلطی کی اطلاع دیں

مزید