فصلت

فصّلت

54 آیاتمکیپارہ 24

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 25

    ۞ وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَيَّنُوا۟ لَهُم مَّا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَحَقَّ عَلَيْهِمُ ٱلْقَوْلُ فِىٓ أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ خَـٰسِرِينَ

    اور ہم نے ان کے کچھ ہم نشیں مقرر کر رکھے تھے، جنہوں نے ان کے اگلے پچھلے اعمال ان کی نگاہوں میں خوبصورت بنا رکھے[1] تھے اور ان کے حق میں بھی اللہ کا قول ان امتوں کے ساتھ پورا ہوا جو ان سے پہلے جنوں انسانوں کی گزر چکی ہیں۔ یقیناً وه زیاں کار ﺛابت ہوئے.

    حواشی

    [1] ان سےمراد وہ شیاطین انس و جن ہیں جو باطل پر اصرارکرنے والوں کےساتھ لگ جاتے ہیں، جو انہیں کفر و معاصی کو خوبصورت کرکے دکھاتے ہیں، پس وہ اس گمراہی کی دلدل میں پھنسے رہتے ہیں، حتیٰ کہ انہیں موت آ جاتی ہے اور وہ خسارۂ ابدی کے مستحق قرار پاتے ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 25 کی تفسیر

    [25] یعنی ہم نے حق کا انکار کرنے والے ان ظالموں کے لیے ﴿قُ٘رَنَآءَ ﴾ ’’ہم نشین‘‘ شیاطین کو ساتھی مقرر کر دیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَمْ تَرَ اَنَّـاۤ٘ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَى الْ٘كٰفِرِیْنَ تَؤُزُّهُمْ اَزًّا﴾ (مریم: 19؍83) ’’کیا آپ دیکھتے نہیں ہم کفار کی طرف شیاطین کو بھیجتے ہیں جو انھیں برائی پر آمادہ کرتے رہتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ انھیں گناہ کا ارتکاب کرنے کے لیے بے قرار رکھتے ہیں اور ان کو بہکاتے رہتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان شیاطین نے مزین کردیا۔﴿ لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ﴾ ’’ان کے لیے جو ان کے آگے تھا اور جو ان کے پیچھے تھا۔‘‘ پس ان شیاطین نے دنیا اور اس کی خوبصورتی کو ان کی آنکھوں کے سامنے مزین کر دیا اور انھیں اس کی لذات و شہوات محرمہ کے حوالے کر دیا، یہاں تک کہ وہ فتنے میں مبتلا ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا اقدام کیا اور جیسے چاہا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے خلاف جنگ کی راہ چل نکلے اور انھوں نے آخرت کو ان سے دور کر دیا اور اس کی یاد کو فراموش کرا دیا۔ بسااوقات آخرت کے وقوع کے بارے میں ان کے دلوں میں شبہات پیدا کیے جس سے ان کے دلوں سے آخرت کا خوف چلا گیا اور وہ ان کو لے کر کفر، بدعات اور معاصی کی راہوں پر گامزن ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ کا ان مکذبینِ حق پر شیاطین کو مسلط کرنا، ان کی اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس کی آیات سے روگردانی اور ان کے انکار حق کے سبب سے ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُ٘قَ٘یِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَ٘رِیْنٌ۰۰۳۶ وَاِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَیَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ ﴾ (الزخرف: 43؍36۔37) ’’جو شخص رحمان کے ذکر سے غفلت برتتا ہے ہم اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں جو اس کا ساتھی ہوتا ہے، یہ شیاطین انھیں راہ راست پر چلنے سے روک دیتے ہیں اور یہ اپنی جگہ یہی سمجھتے ہیں کہ راہ راست پر چل رہے ہیں۔‘‘ ﴿وَحَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ ﴾ ’’اور ان پر حکم الٰہی ثابت ہوگیا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا قول ان پر واجب ہو گیا اور اس کی قضاوقدر کا فیصلہ، عذاب کے ساتھ ان پر نازل ہو گیا۔ ﴿فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْ٘جِنِّ وَالْاِنْ٘سِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ ﴾ ’’جنوں اور انسانوں کی جماعتوں میں جو ان سے پہلے گزر چکیں (جن پر بھی اللہ کا وعدہ پورا ہوا) کہ بے شک یہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔‘‘ جو اپنے دین اور آخرت کے بارے میں گھاٹے میں پڑ گئے اور جو شخص گھاٹے میں پڑ جائے تو اسے ذلت ، اور عذاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 25 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتشورىالشورى

غلطی کی اطلاع دیں

مزید