فصلت

فصّلت

54 آیاتمکیپارہ 24

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 37

    وَمِنْ ءَايَـٰتِهِ ٱلَّيْلُ وَٱلنَّهَارُ وَٱلشَّمْسُ وَٱلْقَمَرُ ۚ لَا تَسْجُدُوا۟ لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَٱسْجُدُوا۟ لِلَّهِ ٱلَّذِى خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ

    اور دن رات اور سورج چاند بھی (اسی کی) نشانیوں میں سے ہیں[1] ، تم سورج کو سجده نہ کرو نہ چاند کو[2] بلکہ سجده اس اللہ کے لیے کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے[3]، اگر تمہیں اس کی عبادت کرنی ہے تو.

    حواشی

    [1] یعنی رات کو تاریک بنانا تاکہ لوگ اس میں آرام کر سکیں، دن کو روشن بنانا تاکہ کسب معاش میں پریشانی نہ ہو، پھر یکے بعد دیگرے ایک دوسرے کا آنا جانا اور کبھی رات کا لمبا اور دن کاچھووٹا ہونا۔ اور کبھی اس کے برعکس دن کا لمبا اور رات کا چھوٹا ہونا۔ اسی طرح سورج اور چاندکا اپنے اپنے وقت پر طلوع و غروب ہونا اور اپنے اپنے مدار پراپنی منزلیں طے کرتے رہنا اور آپس میں باہمی تصادم سے محفوظ رہنا، یہ سب اس بات کی دلیلیں ہیں کہ ان کا یقیناً کوئی خالق اور مالک ہے۔ نیز وہ ایک اور صرف ایک ہے اورکائنات میں صرف اسی کا تصرف اور حکم چلتا ہے۔ اگر تدبیر و امرکا اختیار رکھنے والے، ایک سے زیادہ ہوتے تو یہ نظام کائنات ایسے مستحکم اور لگے بندھے طریقے سےکبھی نہیں چل سکتا تھا۔ [2] اس لیے کہ یہ بھی تمہاری اللہ کی مخلوق ہیں، خدائی اختیارات سے بہرہ ور یا ان میں شریک نہیں ہیں۔ [3] خَلَقَهُنَّ ، میں جمع مونث کی ضمیر اس لیے آئی ہے کہ یہ یا تو خَلَقَ هَذِهِ الأَرْبَعَةَ الْمَذْكُورَةَ کے مفہوم میں ہے، کیونکہ غیر عاقل کی جمع کا حکم مؤنث ہی کا ہے۔ یا اس کا مرجع شمس و قمرہی ہیں اور بعض ائمہ نحاۃ کے نزدیک تثنیہ بھی جمع ہے یا پھر مراد الآیات ہیں، (فتح القدیر)۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 37 کی تفسیر

    [37] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمِنْ اٰیٰتِهِ ﴾ ’’اس کی نشانیوں میں سے‘‘ جو اس کے کمال قدرت، نفوذ مشیت، لامحدود قوت اور بندوں پر بے پایاں رحمت پر دلالت کرتی ہیں، نیز اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ ﴿الَّیْلُ وَالنَّهَارُ ﴾ ’’دن اور رات ہیں۔‘‘ دن اپنی روشنی کی منفعت کی بنا پر نشانی ہے کہ لوگ دن کی روشنی میں اپنے کام کاج کے لیے چلتے پھرتے ہیں۔ رات اپنی تاریکی کی منفعت کی بنا پر نشانی ہے کہ مخلوق رات کی تاریکی میں آرام کرتی ہے۔ ﴿وَالشَّ٘مْسُ وَالْ٘قَ٘مَرُ ﴾ ’’اور سورج اور چاندہیں۔‘‘ جن کے بغیر بندوں کی معاش، ان کے ابدان اور ان کے حیوانات کے ابدان درست نہیں رہتے۔ سورج اور چاند کے ساتھ مخلوق کے بے شمار مصالح وابستہ ہیں۔ ﴿لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّ٘مْسِ وَلَا لِلْ٘قَ٘مَرِ ﴾ ’’سورج کو سجدہ کرو نہ چاند کو‘‘ کیونکہ یہ دونوں تو مخلوق اور اللہ تعالیٰ کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہیں ﴿وَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَ٘لَ٘قَ٘هُنَّ ﴾ ’’اور اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان سب چیزوں کو پیدا کیا ہے۔‘‘ یعنی اسی اکیلے کی عبادت کرو کیونکہ وہی خالق عظیم ہے اور اس کے سوا تمام مخلوقات کی عبادت چھوڑ دو خواہ وہ کتنی ہی بڑی اور ان کے فوائد کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں کیونکہ یہ مصالح اور فوائد ان کے خالق کی طرف سے ودیعت کیے گئے ہیں۔ جو نہایت بابرکت اور بلند ہے، ﴿اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ ﴾ ’’اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘ پس اسی کے لیے اپنی عبادت کو خاص کرو اور اسی کے لیے اپنے دین کو خالص کرو۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 37 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتشورىالشورى

غلطی کی اطلاع دیں

مزید