فصلت

فصّلت

54 آیاتمکیپارہ 24

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 40

    إِنَّ ٱلَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِىٓ ءَايَـٰتِنَا لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَآ ۗ أَفَمَن يُلْقَىٰ فِى ٱلنَّارِ خَيْرٌ أَم مَّن يَأْتِىٓ ءَامِنًا يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۚ ٱعْمَلُوا۟ مَا شِئْتُمْ ۖ إِنَّهُۥ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ

    بیشک جو لوگ ہماری آیتوں میں کج روی کرتے ہیں[1] وه (کچھ) ہم سے مخفی نہیں[2]، (بتلاؤ تو) جو آگ میں ڈاﻻ جائے وه اچھا ہے یا وه جو امن و امان کے ساتھ قیامت کے دن آئے[3]؟ تم جو چاہو کرتے چلے جاؤ[4] وه تمہارا سب کیا کرایا دیکھ رہا ہے.

    حواشی

    [1] یعنی ان کو مانتے نہیں بلکہ ان سے اعتراض، انحراف اور ان کی تکذیب کرتے ہیں۔ حضرت ابن عباس رضي الله عنهما نے الحاد کے معنی کیے ہیں وَضْعَ الْكَلَاَمِ عَلَى غَيْرِ مَوَاضِعِهِ، جس کی رو سے اس میں وہ باطل فرقے بھی جاتے ہیں جو اپنے غلط عقائد و نظریات کے اثبات کے لیے آیات الٰہی میں تحریف معنوی اور دجل و تلبیس سے کام لیتے ہیں۔ [2] یہ ملحدین (چاہے وہ کسی قسم کےہوں) کےلیے سخت وعید ہے۔ [3] یعنی کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ نہیں یقیناً نہیں۔ علاوہ ازیں اس سے اشارہ کر دیا کہ ملحدین آگ میں ڈالے جائیں گے اوراہل ایمان قیامت والے دن بےخوف ہوں گے۔ [4] یہ امر کالفظ ہے، لیکن یہاں اس سے مقصود وعید اور تہدید ہے۔ کفرو شرک اور معاصی کے لیے اذن اور اباحت نہیں ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 40 کی تفسیر

    [40] اللہ تعالیٰ کی آیات میں الحاد سے مراد ہے کہ ان کو کسی بھی لحاظ سے حق و صواب سے ہٹا دینا۔ یا تو ان آیات الٰہی کا انکار کر دینا اور ان آیات کو لانے والے رسول کی تکذیب کرنا، یا ان آیات الٰہی کو ان کے حقیقی معانی سے ہٹا کر، ایسے معانی کا اثبات کرنا جو اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے الحاد کرنے والوں کو وعید سنائی ہے کہ اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، اسے اس کے ظاہر و باطن کی اطلاع ہےاور وہ عنقریب اسے اس کے الحاد کی سزا دے گا۔ بنابریں فرمایا: ﴿اَفَ٘مَنْ یُّ٘لْ٘قٰى فِی النَّارِ ﴾ ’’کیا جو شخص آگ میں ڈالا جائے گا۔‘‘ مثلاً: اللہ تعالیٰ کی آیات میں الحاد کرنے والا ﴿خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْۤ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ ﴾ ’’وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن و امان سے آئے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ و مامون اور اس کے ثواب کا مستحق ہے؟ اور یہ بدیہی طور پر معلوم ہے کہ یہی شخص بہتر ہے۔ جب باطل سے حق واضح ہو گیا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دینے والا راستہ ہلاکت کی گھاٹیوں میں پہنچانے والے راستے سے الگ ہو گیا تو فرمایا: ﴿اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ ﴾ ’’تم جو چاہو کرلو۔‘‘ چاہو تو ہدایت کا راستہ اختیار کر لو جو رضائے الٰہی اور جنت کی منزل کو جاتا ہے، اور چاہو تو گمراہی کے راستے کو اختیار کر لو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور بدبختی کی منزل پر جا کر ختم ہوتا ہے۔ ﴿اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ ﴾ ’’بے شک جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ اس لیے وہ تمھارے احوال و اعمال کے مطابق جزا دے گا۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿وَقُ٘لِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَ٘مَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّمَنْ شَآءَ فَلْ٘یَكْ٘فُ٘رْ ﴾ (الکہف: 18؍29) ’’کہہ دیجیے: حق تمھارے رب کی طرف سے ہے، جس کا جی چاہے ایمان لے آئے اور جس کا جی چاہے کفر کا رویہ اختیار کرے۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 40 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتشورىالشورى

غلطی کی اطلاع دیں

مزید