فصلت

فصّلت

54 آیاتمکیپارہ 24

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 42

    لَّا يَأْتِيهِ ٱلْبَـٰطِلُ مِنۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِۦ ۖ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ

    جس کے پاس باطل پھٹک بھی نہیں سکتا نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے، یہ ہے نازل کرده حکمتوں والے خوبیوں والے (اللہ) کی طرف سے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی وہ ہر طرح سے محفوظ ہے، آگے سے، کا مطلب ہے کمی اور پیچھے سے، کا مطلب ہے زیادتی یعنی باطل اس کے آگے سے آ کراس میں کمی اور نہ اس کے پیچھے سے آکر اس میں اضافہ کرسکتا ہے اور نہ کوئی تغییر و تحریف ہی کرنےمیں کامیاب ہو سکتا ہے۔ کیونکہ یہ اس کی طرف سے نازل کردہ ہے جو اپنے اقوال و افعال میں حکیم ہے اور حمید یعنی محمود ہے۔ یا وہ جن باتوں کا حکم دیتا ہے اور جن سے منع فرماتا ہے، عواقب اور غایات کے اعتبار سے سب محمود ہیں، یعنی اچھے اور مفید ہیں۔ (ابن کثیر)۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 41 - 42 کی تفسیر

    [41، 42] پھرفرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ ﴾ ’’بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے انکار کیا ذکر (قرآن کریم) کا‘‘ یعنی جو لوگ قرآن کریم کا انکار کرتے ہیں، جو بندوں کو ان کے دینی، دنیاوی اور اخروی مصالح کی یاد دہانی کراتا ہے اور جو اس کی اتباع کرے اس کا مرتبہ بلند کرتا ہے۔ ﴿لَمَّا جَآءَهُمْ ﴾ ’’جبکہ وہ ان کے پاس آیا۔‘‘ یعنی افضل اور کامل ترین ہستی کے ذریعے سے ان کے رب کی طرف سے نعمت کے طور پر آیا۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ حال یہ ہے کہ ﴿اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ ﴾ ’’بے شک وہ ایک کتاب ہے‘‘ یہ اوصافِ کمال کی جامع کتاب ہے۔ ﴿عَزِیْزٌ﴾ ’’زبردست‘‘ یعنی ہر قسم کے ارادۂ تحریف اور برائی سے محفوظ و مامون ہے۔اسی لیے فرمایا: ﴿لَّا یَ٘اْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهٖ﴾ ’’اس پر جھوٹ کا دخل آگے سے ہوسکتا ہے نہ پیچھے سے۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس میں سے کوئی شیطان، چوری یا دخل اندازی یا کمی بیشی کے ارادے سے اس کے قریب نہیں آسکتا۔ یہ اپنی تنزیل میں محفوظ اور اس کے الفاظ و معانی ہر تحریف سے مامون و مصئون ہیں۔ جس ہستی نے اسے نازل کیا ہے اس نے اس کی حفاظت کا ذمہ اٹھایا ہے اور فرمایا: ﴿اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوْنَؔ﴾ (الحجر: 15؍9) ’’بے شک ہم نے ’’ذکر‘‘ (یعنی قرآن) کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘ ﴿تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ ﴾ یعنی اس ہستی کی طرف سے نازل کردہ ہے جو اپنے خلق و امر میں حکمت والی ہے۔ جو ہر چیز کو اس کے مناسب حال مقام پر رکھتی ہے۔ ﴿حَمِیْدٍ ﴾ ’’قابل تعریف ہے‘‘ جو اپنی صفات کمال، نعوت جلال اور اپنے عدل و احسان پر قابل تعریف ہے، بنابریں اس کی کتاب تمام ترحکمت، تحصیل مصالح و منافع اور دفع مفاسد کی تکمیل پر مشتمل ہے جن پر وہ ہستی قابل تعریف ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 42 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتشورىالشورى

غلطی کی اطلاع دیں

مزید