فصلت

فصّلت

54 آیاتمکیپارہ 24

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 45

    وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَـٰبَ فَٱخْتُلِفَ فِيهِ ۗ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِىَ بَيْنَهُمْ ۚ وَإِنَّهُمْ لَفِى شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيبٍ

    یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی، سو اس میں بھی اختلاف کیا گیا اور اگر (وه) بات نہ ہوتی (جو) آپ کے رب کی طرف سے پہلے ہی مقرر ہو چکی ہے[1] ۔ توان کے درمیان (کبھی کا) فیصلہ ہو چکا ہوتا[2]، یہ لوگ تو اس کے بارے میں سخت بےچین کرنے والے شک میں ہیں.[3]

    حواشی

    [1] کہ ان کو عذاب دینے سے پہلے مہلت دی جائے گی۔ وَلَكِنْ يُؤَخِّرُهُمْ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى (فاطر ،45) [2] یعنی فوراً عذاب دے کر ان کو تباہ کردیا گیا ہوتا۔ [3] یعنی ان کا انکار عقل و بصیرت کی وجہ سےنہیں، بلکہ محض شک کی وجہ سے ہے جو ان کو بےچین کئے رکھتا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 45 کی تفسیر

    [45] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو بھی کتاب عطا کی تھی‘‘ جس طرح آپ(e) کو کتاب عطا کی ہے۔ لوگوں نے حضرت موسیٰu کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جو آپ کے ساتھ کر رہے ہیں۔ پس لوگوں نے اس کتاب کے بارے میں اختلاف کیا۔ ان میں سے کچھ لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئے، انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل کی اور اس سے مستفید ہوئے اور کچھ لوگوں نے اس کتاب کی تکذیب کی اور اس سے مستفید نہ ہو سکے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے حلم اور سابقہ فیصلے کی بنا پر ان پر عذاب کو ایک مدت مقررہ تک مؤخر نہ کرتا، جس سے یہ عذاب آگے پیچھے نہیں ہو سکتا۔ ﴿لَ٘قُ٘ضِیَ بَیْنَهُمْ ﴾ ’’تو ان کے درمیان فیصلہ ہو چکا ہوتا‘‘ جس سے اہل ایمان اور کفار کے درمیان فرق واضح ہو جاتا اور کافروں کو اسی حال میں ہلاک کر دیا جاتا کیونکہ ان کی ہلاکت کا سبب پورا ہو چکا تھا۔ ﴿وَاِنَّهُمْ لَ٘فِیْ شَكٍّ مِّؔنْهُ مُرِیْبٍ ﴾ ’’اور یہ اس (قرآن) کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں۔‘‘ شک نے ان کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے، جہاں وہ متزلزل ہو گئے ہیں۔ اس لیے انھوں نے اس کی تکذیب کی۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 45 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتشورىالشورى

غلطی کی اطلاع دیں

مزید