فصلت

فصّلت

54 آیاتمکیپارہ 24

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 48

    وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَدْعُونَ مِن قَبْلُ ۖ وَظَنُّوا۟ مَا لَهُم مِّن مَّحِيصٍ

    اور یہ جن (جن) کی پرستش اس سے پہلے کرتے تھے وه ان کی نگاه سے گم ہوگئے[1] اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اب ان کے لیے کوئی بچاؤ نہیں.[2]

    حواشی

    [1] یعنی وہ ادھر ادھر ہوگئے اور حسب گمان انہوں نے کسی کو فائدہ نہیں پہنچایا۔ [2] یہ گمان، یقین کے معنی میں ہے یعنی قیامت والے دن وہ یہ یقین کرنے پر مجبور ہوں گے کہ انہیں اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا «وَرَأَى الْمُجْرِمُونَ النَّارَ فَظَنُّوا أَنَّهُمْ مُوَاقِعُوهَا وَلَمْ يَجِدُوا عَنْهَا مَصْرِفًا» (الكهف: 53)۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 47 - 48 کی تفسیر

    [47، 48] یہ اللہ تعالیٰ کے وسیع علم کا ذکر ہے۔ نیز یہ ان امور کا ذکر ہے جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ سے مختص ہے، جنھیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا ، چنانچہ فرمایا: ﴿اِلَیْهِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ ﴾ ’’قیامت کا علم اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوق کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتا ہے۔ تمام انبیاء و مرسلین اور فرشتے وغیرھم اس بارے میں اپنے عجز اور بے بسی کا اقرار کرتے ہیں۔ ﴿وَمَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا ﴾ ’’اور نہ تو پھل گابھوں سے نکلتے ہیں۔‘‘ یعنی اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں۔ یہ تمام درختوں کے پھل کو شامل ہے جو شہروں میں یا جنگلوں میں اگتے ہیں۔ کسی درخت پر جو پھل بھی لگتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو تفصیلی طور پر جانتا ہے۔ ﴿وَمَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى ﴾ ’’اور نہیں حاملہ ہوتی کوئی مادہ۔‘‘ بنی آدم اور تمام حیوانات میں سے حاملہ جو حمل اٹھاتی ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ ﴿وَلَا تَ٘ضَعُ ﴾ ’’اور نہ كوئی حاملہ بچہ جنم دیتی ہے ﴿ اِلَّا بِعِلْمِهٖ﴾ مگر اس کے علم سے۔‘‘ مشرکین نے ان ہستیوں کو کیسے اللہ تعالیٰ کے برابر ٹھہرا دیا جو سن سکتی ہیں نہ دیکھ سکتی ہیں۔ ﴿وَیَوْمَ یُنَادِیْهِمْ ﴾ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز مشرکین کو، زجروتوبیخ کے طور پر اور ان کے جھوٹ کو ظاہر کرتے ہوئے پکارے گا اور فرمائے گا: ﴿اَیْنَ شُ٘رَؔكَآءِیْ ﴾ ’’میرے شریک کہاں ہیں۔‘‘ جن کو تم میرا شریک سمجھتے ہوئے ان کی عبادت کرتے تھے اس کی بنا پر تم جھگڑتے اور رسولوں سے عداوت رکھتے تھے۔ ﴿قَالُوْۤا ﴾ وہ اپنے خودساختہ معبودوں کی الوہیت اور ان کی شرکت کے بطلان کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنْ شَهِیْدٍ﴾ ’’ہم آپ سے کہہ چکے کہ (آج) ہم میں سے کوئی (ایسی) گواہی دینے والا نہیں۔‘‘ یعنی اے ہمارے رب ہم تیرے سامنے اقرار کرتے ہیں، تو گواہ رہنا کہ ہم میں سے کوئی بھی ان معبودان باطل کی الوہیت اور شرکت کی گواہی نہیں دیتا۔ اب ہم سب ان کی عبادت کے بطلان کا اقرار اور ان سے براء ت کا اعلان کرتے ہیں۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَدْعُوْنَ ﴾ ’’اور گم ہوجائیں گے ان سے وہ جن کو وہ پکارا کرتے تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر یعنی ان کے وہ تمام عقائد اور اعمال اکارت جائیں گے جن کے اندر انھوں نے غیراللہ کی عبادت کرتے ہوئے عمریں گزاریں۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے یہ خودساختہ معبود انھیں کوئی فائدہ دیں گے، ان سے عذاب دور کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے سفارشی ہوں گے۔ ان کی تمام کوششیں رائیگاں جائیں گی، ان کا گمان جھوٹا ثابت ہوگا اور ان کے خودساختہ شرکاء ان کے کسی کام نہ آسکیں گے۔ ﴿وَظَنُّوْا ﴾ اور اس حال میں انھیں یقین آ جائے گا ﴿مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ﴾ کہ کوئی ان کو بچانے والا ہے نہ کوئی مدد کو پہنچنے والا اور نہ ان کو کوئی جائے پناہ ہی ملے گی۔ یہ ہے اس شخص کا انجام جس نے شرک کا ارتکاب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واضح کر دیا ہے کہ وہ شرک سے بچیں۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 48 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتشورىالشورى

غلطی کی اطلاع دیں

مزید