فصلت

فصّلت

54 آیاتمکیپارہ 24

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 6

    قُلْ إِنَّمَآ أَنَا۠ بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰٓ إِلَىَّ أَنَّمَآ إِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَٰحِدٌ فَٱسْتَقِيمُوٓا۟ إِلَيْهِ وَٱسْتَغْفِرُوهُ ۗ وَوَيْلٌ لِّلْمُشْرِكِينَ

    آپ کہہ دیجیئے! کہ میں تو تم ہی جیسا انسان ہوں مجھ پر وحی نازل کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود ایک اللہ ہی ہے[1] سو تم اس کی طرف متوجہ ہو جاؤ اور اس سے گناہوں کی معافی چاہو، اور ان مشرکوں کے لیے (بڑی ہی) خرابی ہے.

    حواشی

    [1] یعنی میرے اور تمہارے درمیان کوئی امتیاز نہیں ہے۔ بجز وحی الٰہی کے پھر یہ بعد و حجاب کیوں؟ علاوہ ازیں میں جو دعوت توحید پیش کر رہاہوں، وہ بھی ایسی نہیں کہ عقل و فہم میں نہ آ سکے، پھر اس سے اعراض کیوں؟

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 6 - 7 کی تفسیر

    [6، 7] ﴿قُ٘لْ ﴾ اے نبی! ان سے کہہ دیجیے: ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّؔثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ ﴾ ’’میں تو تمھارے جیسا ہی ایک انسان ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے۔‘‘ یعنی میرا وصف اور میرا وظیفہ یہ ہے کہ میں تمھارے جیسا بشر ہوں، میرے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں اور نہ میرے اختیار میں وہ عذاب ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس وحی کے ذریعے سے مجھے تم پر فضیلت عطا کی، اس کے ذریعے سے مجھے تم سے ممتاز کیا اور اس کے لیے مجھے مختص کیا، جو وحی اس نے میری طرف بھیجی، مجھے اس کی اتباع اور تمھیں اس کی طرف دعوت دینے کا حکم دیا۔ ﴿فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ ﴾ ’’ لہٰذا سیدھے اس طرف متوجہ رہو‘‘ یعنی میں جن امور کے بارے میں تمھیں خبر دے رہا ہوں اس کی تصدیق، اوامر کی اتباع اور نواہی سے اجتناب کر کے، اس راستے پر گامزن ہو جاؤ جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے ۔ یہ حقیقت استقامت ہے۔ اور پھر اس پر قائم رہو۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ﴿اِلَیْهِ ﴾ میں اخلاص کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی عمل کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل کا مقصد اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچنا قرار دے، اس طرح اس کا عمل خالص، صالح اور نفع مند ہو گا اور اخلاص کی عدم موجودگی سے اس کا عمل باطل ہو جائے گا اور چونکہ بندہ، خواہ وہ استقامت کا کتنا ہی حریص کیوں نہ ہوں، مامورات میں تقصیر، منہیات کے ارتکاب کی بنا پر خلل کا شکار ہو جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو استغفار کی دوا کے استعمال کا حکم دیا ہے، جو توبہ کو متضمن ہے، پس فرمایا: ﴿وَاسْتَغْفِرُوْهُ ﴾ ’’اور اس سے مغفرت طلب کرو۔‘‘ پھر ترک استقامت پر اللہ تعالیٰ نے وعید سنائی، چنانچہ فرمایا: ﴿وَوَیْلٌ لِّ٘لْ٘مُشْرِكِیْنَۙ۰۰ الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ ﴾’’مشرکین کے لیے ہلاکت ہے۔ جو زکاۃ نہیں دیتے۔‘‘ یعنی جو اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں جو کسی کو نفع و نقصان دینے کا اختیار رکھتی ہیں نہ موت و حیات کا اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کا۔ انھوں نے اپنے آپ کو گندگی میں دھنسا لیا ہے اور اپنے رب کی توحید اور اخلاص کے ذریعے سے اپنے آپ کو پاک نہیں کرتے، وہ نماز پڑھتے ہیں نہ زکاۃ دیتے ہیں اور وہ توحید اور نماز کے ذریعے سے اپنے رب کے لیے اخلاص رکھتے ہیں نہ زکاۃ کے ذریعے سے مخلوق کو نفع پہنچاتے ہیں۔ ﴿وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت کے بھی منکر ہیں۔‘‘ یعنی وہ حیات بعدالموت پر ایمان رکھتے ہیں نہ جنت اور جہنم پر، اس لیے ان کے دلوں سے خوف زائل نہیں ہو گا۔ انھوں نے ایسے ایسے کام کیے ہیں جو آخرت میں انھیں سخت نقصان دیں گے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 6 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتشورىالشورى

غلطی کی اطلاع دیں

مزید