الشورى

شورى

53 آیاتمکیپارہ 25

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 10

    وَمَا ٱخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَىْءٍ فَحُكْمُهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِ ۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبِّى عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ

    اور جس جس چیز میں تمہارا اختلاف ہو اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے[1] ، یہی اللہ میرا رب ہے جس پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے اور جس کی طرف میں جھکتا ہوں.

    حواشی

    [1] اس اختلاف سے مراد دین کا اختلاف ہے جس طرح یہودیت، عیسائیت اور اسلام وغیرہ میں آپس میں اختلافات ہیں اور ہر مذہب کا پیروکار دعویٰ کرتا ہے کہ اس کا دین سچا ہے، دراں حالیکہ سارے دین بیک وقت صحیح نہیں ہوسکتے۔ سچا دین تو صرف ایک ہی ہے اور ایک ہی ہوسکتا ہے۔ دنیا میں سچا دین اور حق کا راستہ پہچاننے کے لیے اللہ تعالیٰ کا قرآن موجود ہے۔ لیکن دنیا میں لوگ اس کلام الٰہی کو اپنا حکم اور ثالث ماننے کے لیے تیار نہیں۔ بالآخر پھر قیامت کا دن ہی رہ جاتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ ان اختلافات کا فیصلہ فرمائے گا اور سچوں کو جنت میں اور دوسروں کو جہنم میں داخل فرمائے گا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 10 کی تفسیر

    [10] ﴿وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ ﴾ ’’اور جن باتوں میں تم آپس میں اختلاف رکھتے ہو۔‘‘ یعنی اپنے دین کے اصول و فروع میں اگر تم ایک دوسرے سے متفق نہ ہو۔ ﴿فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ تو اسے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کی طرف لوٹایا جائے وہ دونوں جو فیصلہ کریں، وہی حق ہے اور جو ان دونوں کے خلاف ہو، وہ باطل ہے۔ ﴿ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ ﴾ ’’یہی اللہ میرا رب ہے۔‘‘ جس طرح اللہ تعالیٰ کائنات کا رب، خالق، رازق اور مدبر ہے، اسی طرح وہ اپنے بندوں کے درمیان ان کے تمام امور میں اپنی شریعت کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ کسی امر پر اتفاقِ امت حجتِ قطعی ہے کیونکہ جن امور میں ہمارے درمیان اختلاف نہ ہو اسے اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف لوٹانے کا حکم نہیں دیا۔ تب معلوم ہوا کہ جس چیز پر ہم اتفاق کریں تو امت کا اتفاق، اس کے حق ہونے کی دلیل کے لیے کافی ہے کیونکہ امت مجموعی طور پر معصوم عن الخطا ہے۔ اس لیے یہ لازمی امر ہے کہ کسی مسئلہ پر امت کا اتفاق، کتاب و سنت کے موافق ہو۔ ﴿عَلَیْهِ تَوَؔكَّلْتُ ﴾ ’’میں نے اسی پر بھروسا کیا۔‘‘ جلب منفعت، دفع مضرت اور اپنی حاجت کے پورا ہونے کے بارے میں پورے وثوق کے ساتھ اسی پر اعتماد کرتا ہوں ﴿وَاِلَیْهِ اُنِیْبُ ﴾ اور میں اپنے دل و جان سے اس کی طرف اور اس کی عبادت و اطاعت کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔یہ دو ایسے اصول ہیں جن کا اللہ تعالیٰ اپنی کتاب عظیم میں نہایت کثرت سے ذکر فرماتا ہے، کیونکہ ان دونوں کے جمع ہونے سے بندۂ مومن کو کمال حاصل ہوتا ہے۔ اور ان دونوں کے نہ ہونے یا ان میں سے کسی ایک سے محروم ہونے سے بندۂ مومن کمال سے محروم ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِیَّ٘اكَ نَعْبُدُ وَاِیَّ٘اكَ نَسْتَعِیْنُ﴾ (الفاتحۃ:1؍4) ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد کے طلب گار ہیں‘‘ اور فرمایا: ﴿فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَیْهِ ﴾ (ہود:11؍123) ’’اس کی عبادت کیجیے اور اس پر بھروسہ کیجیے۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 10 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتزخرفالزخرف

غلطی کی اطلاع دیں

مزید