الشورى

شورى

53 آیاتمکیپارہ 25

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 11

    فَاطِرُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَٰجًا وَمِنَ ٱلْأَنْعَـٰمِ أَزْوَٰجًا ۖ يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ ۚ لَيْسَ كَمِثْلِهِۦ شَىْءٌ ۖ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْبَصِيرُ

    وه آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے واﻻ ہے اس نے تمہارے لیے تمہاری جنس کے جوڑے بنادیئے ہیں[1] اور چوپایوں کے جوڑے بنائے ہیں[2] تمہیں وه اس میں پھیلا رہا ہے[3] اس جیسی کوئی چیز نہیں[4] وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے.

    حواشی

    [1] یعنی یہ اس کا احسان ہے کہ تمہاری جنس سے ہی اس نے تمہارے جوڑے بنائے، ورنہ اگر تمہاری بیویاں انسانوں کے بجائے کسی اور مخلوق سے بنائی جاتیں تو تمہیں یہ سکون حاصل نہ ہوتا جو اپنی ہم جنس اور ہم شکل بیوی سے ملتا ہے۔ [2] یعنی یہی جوڑے بنانے (مذکر ومونث) کا سلسلہ ہم نے چوپایوں میں بھی رکھا ہے، چوپایوں سے مراد وہی نر اور مادہ آٹھ جانور ہیں جن کا ذکر سورۃ الانعام میں کیا گیا ہے۔ [3] يَذْرَؤُكُمْ کے معنی پھیلانے یا پیدا کرنے کے ہیں یعنی وہ تمہیں کثرت سے پھیلا رہا ہے۔ یا نسلاً بعد نسل پیدا کررہا ہے۔ انسانی نسل کو بھی اور چوپائے کی نسل کو بھی ،فیہ کا مطلب ہے فِي ذَلِكَ الْخَلْقِ عَلَى هَذِهِ الصِّفَةِ یعنی اس پیدائش میں اس طریقے پر وہ تمہیں ابتدا سے پیدا کرتا آرہا ہے۔ یا ”رحم میں“ یا ”پیٹ میں“ مراد ہے۔ یا فِيهِ بمعنی بہ ہے یعنی تمہارا جوڑا بنانے کے سبب سے تمہیں پیدا کرتا یا پھیلاتا ہے کیونکہ یہ زوجیت ہی نسل کا سبب ہے۔ (فتح القدیر وابن کثیر)۔ [4] نہ ذات میں نہ صفات میں، پس وہ اپنی نظیر آپ ہی ہے، واحد اور بے نیاز۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 11 کی تفسیر

    [11] ﴿فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی قدرت، مشیت اور حکمت سے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے۔ ﴿جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا ﴾ ’’اسی نے تمھارے لیے تمھاری ہی جنس سے جوڑے بنائے۔‘‘ تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کر سکو، تمھاری نسل بڑھ سکے اور تمھیں فائدہ حاصل ہو ﴿وَّمِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا ﴾ ’’اور چوپایوں کے جوڑے بنائے۔‘‘ تمام اصناف سے نر اور مادہ دونوں اقسام بنائیں تاکہ ان کی نسل باقی رہ کر بڑھتی رہے اور تمھاری بہت سی ضرورتیں پوری ہوں۔ اس لیے اس کو ’’لام‘‘ کے ذریعے سے متعدی بنایا ہے، جو تعلیل پر دلالت کرتا ہے، یعنی اس نے یہ جوڑے تمھارے لیے اور تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کے لیے بنائے ہیں ، اس لیے فرمایا: ﴿یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ ﴾ یعنی وہ تمھیں پھیلاتا اور بڑھاتا ہے اور تمھارے مویشیوں کو بھی بڑھاتا ہے، اس طریقے سے کہ اس نے تمھارے لیے تم میں سے تمھارے جوڑے بنائے اور تمھارے لیے تمھارے مویشیوں کے جوڑے بنائے۔ ﴿لَ٘یْسَ كَمِثْلِهٖ٘ شَیْءٌ ﴾ ’’ کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں۔‘‘ یعنی اس کی مخلوقات میں سے کوئی چیز اس کی ذات میں، اس کے اسماء میں، اس کی صفات میں اور اس کے افعال میں مشابہت رکھتی ہے نہ مماثلت کیونکہ اس کے تمام اسماء، اسمائے حسنیٰ ہیں اور اس کی تمام صفات، صفات کمال و عظمت ہیں۔ اس نے اپنے افعال کے ذریعے سے اتنی بڑی کائنات کو بغیر کسی مددگار کے وجود بخشا۔ پس اس جیسی کوئی چیز نہیں کیونکہ وہ ہر لحاظ سے اپنے کمال میں واحد اور متفرد ہے۔ ﴿وَهُوَ السَّمِیْعُ ﴾ ’’اور وہ خوب سننے والا ہے۔‘‘ یعنی مخلوقات کی مختلف زبانوں اور متنوع حاجات کے باوجود وہ سب کی آوازیں سنتا ہے ﴿الْبَصِیْرُ ﴾ ’’خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘ وہ سیاہ رات میں، ٹھوس پتھر پر سیاہ چیونٹی کے رینگنے کو بھی دیکھتا ہے۔ وہ چھوٹے سے چھوٹے حیوان کے جسم میں سرایت کرتی ہوئی خوراک اور درخت کی باریک سے باریک ٹہنی میں سرایت کرتے ہوئے پانی کو بھی دیکھتا ہے۔ یہ آیت کریمہ، صفات کے اثبات اور مخلوقات سے مماثلت کی نفی کے بارے میں اہل سنت و الجماعت کے مذاہب پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد: ﴿لَ٘یْسَ كَمِثْلِهٖ٘ شَیْءٌ ﴾ میں مشبہہ ’’اہل تشبیہ‘‘ کا رد ہے اور ﴿وَهُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ ﴾ میں معطلہ ’’صفاتِ الٰہی کا انکار کرنے والوں‘‘ کا رد ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 11 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتزخرفالزخرف

غلطی کی اطلاع دیں

مزید