الشورى

شورى

53 آیاتمکیپارہ 25

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 15

    فَلِذَٰلِكَ فَٱدْعُ ۖ وَٱسْتَقِمْ كَمَآ أُمِرْتَ ۖ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَآءَهُمْ ۖ وَقُلْ ءَامَنتُ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِن كِتَـٰبٍ ۖ وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ ۖ ٱللَّهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ ۖ لَنَآ أَعْمَـٰلُنَا وَلَكُمْ أَعْمَـٰلُكُمْ ۖ لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ ۖ ٱللَّهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا ۖ وَإِلَيْهِ ٱلْمَصِيرُ

    پس آپ لوگوں کو اسی طرف بلاتے رہیں اور جو کچھ آپ سے کہا گیا ہے اس پر مضبوطی[1] سے جم جائیں اور ان کی خواہشوں پر نہ چلیں[2] اور کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں میرا ان پر ایمان ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تم میں انصاف کرتا رہوں[3]۔ ہمارا اور تم سب کا پروردگار اللہ ہی ہے ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ہیں، ہم تم میں کوئی کٹ حجتی نہیں[4] اللہ تعالیٰ ہم (سب) کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے.

    حواشی

    [1] یعنی اس تفرق اور شک کی وجہ سے، جس کا ذکر پہلے ہوا، آپ ان کو توحید کی دعوت دیں اور اس پر جمے رہیں۔ [2] یعنی انہوں نے اپنی خواہش سے جو چیزیں گھڑ لی ہیں، مثلاً بتوں کی عبادت وغیرہ، اس میں ان کی خواہش کے پیچھے مت چلیں۔ [3] یعنی جب بھی تم اپنا کوئی معاملہ میرے پاس لاؤ گے تو اللہ کے احکام کے مطابق اس کا عدل وانصاف کے ساتھ فیصلہ کروں گا۔ [4] یعنی کوئی جھگڑا نہیں، اس لیے کہ حق ظاہر اور واضح ہوچکا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 15 کی تفسیر

    [15] ﴿فَلِذٰلِكَ فَادْعُ ﴾ یعنی اس دین قویم اور صراط مستقیم کی طرف اپنی امت کو دعوت دیجیے جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل فرمائیں اور رسول مبعوث کیےاور انھیں اس کی ترغیب دیجیے اور اس کی خاطر ان لوگوں سے جہاد کیجیے جو اس کو قبول نہیں کرتے۔ ﴿وَاسْتَقِمْ ﴾ ’’اور خود بھی استقامت اختیار کیجیے‘‘ ﴿كَمَاۤ اُمِرْتَ ﴾ ’’جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے۔‘‘ استقامت سے مراد اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت ہے، جس میں کوئی افراط و تفریط نہ ہو بلکہ اس میں دائمی طور پر اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب ہو۔ سو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی تکمیل کے لیے استقامت کے التزام اور دوسروں کی تکمیل کے لیے اس کی طرف دعوت دینے کا حکم دیا نیز ہمیں معلوم ہے کہ رسول اللہ e کو دیے گئے حکم کا اطلاق امت پر بھی ہوتا ہے، مگر اس شرط کے ساتھ کہ یہ حکم صرف آپ کے ساتھ مخصوص نہ ہو۔ ﴿وَلَا تَ٘تَّ٘بِـعْ اَهْوَآءَؔهُمْ ﴾ یعنی دین سے منحرف لوگوں ، یعنی کفارومنافقین کی خواہشات کی پیروی نہ کیجیے۔ یہ اتباع یا تو ان کے دین کے کسی حصے کی اتباع کے ذریعے سے یا اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت کو ترک کرنے یا استقامت کو ترک کرنے سے واقع ہوتی ہے۔ اگر آپ نے علم کے آ جانے کے بعد بھی، ان کی خواہشات کی پیروی کی تو آپ کا شمار ظالموں میں ہو گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے ارشاد میں )وَلَا تَتَّبِـعْ دِینَھُمْ( نہیں کہا کیونکہ حقیقت میں ان کا دین جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مشروع فرمایا ہے، وہی دین ہے جو تمام انبیاء و مرسلین کا دین ہے، مگر ان کے متبعین نے اس دین کی پیروی نہ کی بلکہ وہ اپنی خواہشات کے پیچھے لگ گئے اور اپنے دین کو کھیل تماشا بنا لیا۔ ﴿وَقُ٘لْ ﴾ ان کے مناظرہ اور بحث کرنے پر کہہ دیجیے ﴿اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ ﴾ ’’جو کتاب اللہ نے نازل کی ہے میں اس پر ایمان رکھتا ہوں۔‘‘ یعنی ان کے ساتھ آپ کا بحث و مناظرہ، اس عظیم اصول پر مبنی ہونا چاہیے جو اسلام کے شرف و جلال پر دلالت کرتا ہے اور تمام ادیان پر اس کے نگران ہونے کا اور یہ اہل کتاب جس دین پر چلنے کے دعویدار ہیں، وہ بھی اسلام کا ایک جزو ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی طرف راہ نمائی کی گئی ہے کہ اگر اہل کتاب، بعض کتابوں اور بعض رسولوں پر ایمان لا کر اور دیگر کا انکار کر کے مناظرہ کریں تو یہ قابل قبول نہیں کیونکہ جس کتاب کی طرف یہ لوگ دعوت دیتے ہیں اور جس رسول کی طرف یہ اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں، اس کی صداقت کی شرط یہ ہے کہ وہ اس قرآن کی اور اس کو لانے والے کی تصدیق کرتا ہو۔ پس ہماری کتاب اور ہمارا رسول (e) ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰi تورات اور انجیل پر ایمان لائیں جن کی قرآن مجید نے تصدیق کی ہے ان کے بارے یہ بھی خبر دی ہے کہ وہ قرآن کی تصدیق اور اس کی صحت کا اقرار کرتی ہیں۔ مجرد تورات و انجیل اور حضرت موسیٰ و عیسیٰi، جو ہمارے اوصاف بیان کرتے ہیں نہ ہماری کتاب کی موافقت کرتے ہیں، تو ان پر ایمان لانے کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم نہیں دیا۔ ﴿وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ ﴾ ’’اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمھارے درمیان انصاف کروں۔‘‘ یعنی ان امور میں فیصلہ کرتے وقت جن میں تم آپس میں اختلاف کرتے ہو ۔ اے اہل کتاب! تمھاری عداوت اور میرے خلاف تمھارا بغض مجھے تمھارے درمیان انصاف کرنے سے روک سکتا ہے نہ اہل کتاب وغیرہ میں مختلف اقوال کے قائلین کے درمیان فیصلے میں عدل سے باز رکھ سکتا ہے اور نہ ان کے ساتھ جو حق ہے اسے قبول کرنے اور ان کے باطل کو رد کرنے سے روک سکتاہے۔ ﴿اَللّٰهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ ﴾ ’’اللہ ہی ہمارا اور تمھارا رب ہے۔‘‘ یعنی وہ سب کا رب ہے، تم ہم سے زیادہ اس کے مستحق نہیں ہو۔ ﴿لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ﴾ ’’ہمارے اچھے برے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمھارے اچھے برے اعمال تمھارے لیے ہیں۔‘‘ ﴿لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَبَیْنَكُمْ ﴾ ’’ہمارے اور تمھارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ہے۔‘‘ حقائق کے عیاں ہو جانے، باطل میں سے حق اور گمراہی میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد حجت بازی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ کیونکہ بحث و مباحثہ کا مقصد محض حق اور باطل کو واضح کرنا ہوتا ہے تاکہ ہدایت یافتہ شخص اس سے راہ نمائی حاصل کرے اور گمراہ پر حجت قائم ہو جائے۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ اہل کتاب مباحثہ نہیں کرتے اور یہ مراد ہو بھی کیسے سکتی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَلَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ ﴾ (العنکبوت:29؍46) ’’اہل کتاب کے ساتھ بحث مباحثہ نہ کرو، مگر احسن طریقے سے۔‘‘ اس سے مراد وہی ہے جو ہم نے ذکر کر دی ہے۔ ﴿اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا١ۚ وَاِلَیْهِ الْمَصِیْرُ﴾ یعنی قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ہمیں جمع کرے گا ، پھر وہ ہر شخص کو اس کے اعمال کی جزا دے گا۔ اس وقت واضح ہو جائے گا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 15 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتزخرفالزخرف

غلطی کی اطلاع دیں

مزید