الشورى

شورى

53 آیاتمکیپارہ 25

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 16

    وَٱلَّذِينَ يُحَآجُّونَ فِى ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مَا ٱسْتُجِيبَ لَهُۥ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِندَ رَبِّهِمْ وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ

    اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی باتوں میں جھگڑا ڈالتے ہیں اس کے بعد کہ (مخلوق) اسے مان چکی[1] ان کی کٹ حجتی اللہ کے نزدیک باطل ہے[2]، اور ان پر غضب ہے اور ان کے لیے سخت عذاب ہے.

    حواشی

    [1] یعنی یہ مشرکین مسلمانوں سے لڑتے جھگڑتے ہیں۔ جنہوں نے اللہ اور رسول کی بات مان لی ہے، تاکہ انہیں پھر راہ ہدایت سے ہٹادیں۔ یا مراد یہود ونصاریٰ ہیں جو مسلمانوں سے جھگڑتے تھے اور کہتے تھے کہ ہمارا دین تمہارے دین سے بہتر ہے اور ہمارا نبی بھی تمہارے نبی سے پہلے ہوا ہے، اس لیے ہم تم سے بہتر ہیں۔ [2] دَاحِضَةٌ کے معنی کمزور، باطل، جس کو ثبات نہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 16 کی تفسیر

    [16] یہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ﴿لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَبَیْنَكُمْ ﴾ (الشوریٰ: 15/42) کا بیان ہے، چنانچہ یہاں آگاہ فرمایا: ﴿الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔‘‘ یعنی باطل دلائل اور متناقض شبہات کے ذریعے سے ۔ ﴿مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ﴾ ’’اس (الله كی ذات) کے تسلیم کیے جانے کے بعد۔‘‘ یعنی اس کے بعد کہ جب عقل سے بہرہ مند لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی دعوت پر لبیک کہا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے قطعی دلائل اور روشن براہین بیان کر دیے تھے تو وہ لوگ جو حق کے واضح ہو جانے کے بعد، حق کے ساتھ مجادلہ کرتے ہیں۔ ﴿حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ ﴾ ان کی حجت باطل اور ناقابل قبول ہے۔ ﴿عِنْدَ رَبِّهِمْ ﴾ ’’ان کے رب کے نزدیک۔‘‘ کیونکہ یہ ایسے امور پر مشتمل ہے جو حق کے خلاف ہیں اور جو چیز حق کے خلاف ہو وہ باطل ہوتی ہے۔ ﴿وَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ ﴾ ان کی نافرمانی، اللہ تعالیٰ کے دلائل و براہین سے روگردانی اور ان کو جھٹلانے کے سبب سے، ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے۔ ﴿وَّلَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ ﴾ ’’اور ان کے لیے شدید عذاب ہے۔‘‘ یہ سخت عذاب اللہ تعالیٰ کے غضب کا نتیجہ ہے اور یہ ہر اس شخص کی سزا ہے جو باطل دلائل سے حق کے خلاف جھگڑتا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 16 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتزخرفالزخرف

غلطی کی اطلاع دیں

مزید