الشورى

شورى

53 آیاتمکیپارہ 25

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 20

    مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ ٱلْـَٔاخِرَةِ نَزِدْ لَهُۥ فِى حَرْثِهِۦ ۖ وَمَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ ٱلدُّنْيَا نُؤْتِهِۦ مِنْهَا وَمَا لَهُۥ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ مِن نَّصِيبٍ

    جس کا اراده آخرت کی کھیتی کا ہو ہم اسے اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے[1] اور جو دنیا کی کھیتی کی طلب رکھتا ہو ہم اسے اس میں سے ہی کچھ دے دیں گے[2]، ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں.[3]

    حواشی

    [1] حَرَثٌ کے معنی تخم ریزی کے ہیں۔ یہاں یہ بہ طریق استعارہ اعمال کے ثمرات وفوائد پر بولا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص دنیا میں اپنے اعمال ومحنت کے ذریعے سے آخرت کے اجر وثواب کا طالب ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی آخرت کی کھیتی میں اضافہ فرمائے گا کہ ایک ایک نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا بلکہ اس سے زیادہ تک بھی عطا فرمائے گا۔ [2] یعنی طالب دنیا کو دنیا تو ملتی ہے لیکن اتنی نہیں جتنی وہ چاہتا ہے بلکہ اتنی ہی ملتی ہے جتنی اللہ کی مشیت اور تقدیر کے مطابق ہوتی ہے۔ [3] یہ وہی مضمون ہے جو سورۂ بنی اسرائیل: 18 میں بھی بیان ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا تو اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اتنی ضرور دیتا ہے جتنی اس نے لکھ دی ہے، کیونکہ وہ سب کی روزی کا ذمہ لئے ہوئے ہے، طالب دنیا کو بھی اور طالب آخرت کو بھی۔ تاہم جو طالب آخرت ہوگا یعنی آخرت کے لیے کسب و محنت کرے گا تو قیامت والے دن اللہ تعالیٰ اسے أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً اجر وثواب عطا فرمائے گا، جب کہ کے لئے آخرت میں سوائے جہنم کے عذاب کے کچھ نہیں ہوگا ۔اب یہ انسان کو خود سوچ لینا چاہیئے کہ اس کا فائدہ طالب دنیا بننے میں ہے یا طالب آخرت بننے میں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 20 کی تفسیر

    [20] پھر فرمایا: ﴿مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ ﴾ ’’جو آخرت کی کھیتی کا طلب گار ہو۔‘‘ یعنی جو کوئی آخرت کا اجروثواب چاہتے ہوئے اس پر ایمان لاتا ہے، اس کی تصدیق کرتا ہے اور اس کے حصول کے لیے پوری طرح کوشاں رہتا ہے ﴿نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ﴾ ’’ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کر دیتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم اس کے عمل اور اس کی جزا کو کئی گنا کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَسَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا﴾ (بنی اسرائیل:17؍19) ’’جو کوئی آخرت کا گھر چاہتا ہے اور اس کے لیے کوشش کرے جیسا کہ کوشش کا حق ہے اور وہ مومن بھی ہو تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔‘‘ اس کے باوجود دنیا میں سے اس کے لیے مقرر کیا گیا حصہ اسے ضرور ملے گا۔ ﴿وَمَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا ﴾ ’’اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے۔‘‘ یعنی دنیا ہی اس کا مطلوب و مقصود ہو، آخرت کے لیے کچھ بھی آگے نہ بھیجے، اسے آخرت کے ثواب کی امید ہے نہ اس کے عذاب کا ڈر۔ ﴿نُؤْتِهٖ مِنْهَا ﴾ تو ہم اسے دنیا میں سے اس کا حصہ عطا کرتے ہیں جو اس کے لیے مقرر ہے۔ ﴿وَمَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ ﴾ ’’اور اس کے لیے آخرت کا کچھ حصہ نہیں ہوگا۔‘‘ اس پر جنت حرام کر دی گئی اور وہ جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کا مستحق ٹھہرا۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی نظیر ہے: ﴿مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَهُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖٞ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ﴾ (ہود:11؍15، 16) ’’جو لوگ اس دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کے طلب گار ہیں ہم انھیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ اسی دنیا میں عطا کر دیتے ہیں اور اس میں ان کو کوئی گھاٹا نہیں دیا جاتا۔یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں اور جو کچھ انھوں نے دنیا میں کیا تھا، وہ سب اکارت ہے اور جو کچھ وہ کرتے تھے، سب برباد ہونے والا ہے۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 20 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتزخرفالزخرف

غلطی کی اطلاع دیں

مزید