الشورى

شورى

53 آیاتمکیپارہ 25

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 22

    تَرَى ٱلظَّـٰلِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا كَسَبُوا۟ وَهُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ ۗ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ فِى رَوْضَاتِ ٱلْجَنَّاتِ ۖ لَهُم مَّا يَشَآءُونَ عِندَ رَبِّهِمْ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَضْلُ ٱلْكَبِيرُ

    آپ دیکھیں گے کہ یہ ﻇالم اپنے اعمال سے ڈر رہے ہوں گے[1] جن کے وبال ان پر واقع ہونے والے ہیں[2]، اور جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے نیک اعمال کیے وه بہشتوں کے باغات میں ہوں گے وه جو خواہش کریں اپنے رب کے پاس موجود پائیں گے یہی ہے بڑا فضل.

    حواشی

    [1] یعنی قیامت والے دن۔ [2] حالانکہ ڈرنابے فائدہ ہوگا کیوں کہ اپنے کیے کی سزا تو انہیں بہرحال بھگتنی ہو گی۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 22 کی تفسیر

    [22] اس روز ﴿تَرَى الظّٰلِمِیْنَ ﴾ ’’تم ظالموں کو دیکھو گے۔‘‘ جنھوں نے کفر اور معاصی کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ ﴿مُشْفِقِیْنَ ﴾ یعنی ڈر رہے ہوں گے ﴿مِمَّا كَسَبُوْا ﴾ ’’اس (انجام) سے جو انھوں نے (اپنے اعمال سے) کیا۔‘‘ کہ انھیں اپنی بداعمالیوں کی سزا ملے گی۔ چونکہ ڈرنے والے کے ساتھ کبھی تو وہ چیز پیش آجاتی ہے جس سے ڈرتا ہے اور کبھی وہ چیز پیش نہیں آتی اس لیے آگاہ فرمایا کہ وہ ﴿ وَاقِعٌۢ بِهِمْ ﴾ عذاب ان پر ضرور واقع ہو گا جس سے وہ ڈرتے ہیں۔ کیونکہ اس نے اس کامل سبب کو اختیار کیا ہے جو عذاب کا موجب ہے اور اس موجب عذاب کا کوئی معارض بھی نہیں، مثلاً: توبہ وغیرہ۔ مزید برآں وہ ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں مہلت کا وقت گزر گیا ہے۔ ﴿وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ﴾ اور وہ لوگ جو اپنے دل سے اللہ تعالیٰ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور اس کا اظہار کیا۔ ﴿وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾ ’’او ر عمل کیے نیک۔‘‘ اس میں اعمال قلوب، اعمال جوارح، اعمال واجبہ اور اعمال مستحبہ سب شامل ہیں، لہٰذا یہ لوگ ﴿فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ ﴾ ’’بہشتوں کے باغات میں ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ ان باغات میں ہوں گے جو جنت کی طرف مضاف (منسوب) ہیں اور مضاف، مضاف الیہ کے مطابق ہوتا ہے۔ مت پوچھیے کہ ان خوبصورت باغات کی خوبصورتی، ان میں اچھل اچھل کر بہتی ہوئی ندیاں، بیلوں سے ڈھکے ہوئے درخت کے جھنڈ، حسین مناظر، پھلوں سے لدے ہوئے درخت، چہچہاتے ہوئے پرندے، طرب انگیز آوازیں، تمام دوستوں سے ملاقاتیں اور اس ہم نشینی سے حاصل ہونے والا بہرۂ کامل کیسا ہو گا؟ وہ ایسے باغات ہوں گے کہ دور دور تک حسن ہی حسن ہو گا، ان باغات کے رہنے والوں میں ان باغات کی لذات کی چاہت اور اشتیاق میں اضافہ ہوگا۔ ﴿لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ ﴾ یعنی ان باغات میں وہ جس چیز کا ارادہ کریں گے وہ فوراً انھیں حاصل ہو گی اور جب بھی طلب کریں گے حاضر کر دی جائے گی، جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے طائر خیال میں اس کا گزر ہوا ہے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الْ٘فَضْلُ الْكَبِیْرُ ﴾ ’’یہی ہے بہت بڑا فضل۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول میں کامیابی اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر میں اس کے تقرب کی نعمت سے بہرہ مند ہونے سے بڑھ کر بھی کوئی فضل ہے؟

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 22 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتزخرفالزخرف

غلطی کی اطلاع دیں

مزید