الشورى

شورى

53 آیاتمکیپارہ 25

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 26

    وَيَسْتَجِيبُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ وَيَزِيدُهُم مِّن فَضْلِهِۦ ۚ وَٱلْكَـٰفِرُونَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ

    ایمان والوں اور نیکوکار لوگوں کی سنتا ہے[1] اور انہیں اپنے فضل سے اور بڑھا کر دیتا ہے اور کفار کے لیے سخت عذاب ہے.

    حواشی

    [1] یعنی ان کی دعائیں سنتا ہے اور ان کی خواہشیں اور آرزوئیں پوری فرماتا ہے۔ بشرطیکہ دعا کے آداب وشرائط کا بھی پورا اہتمام کیا گیا ہو۔ اور حدیث میں آتا ہے کہ اللہ بندے کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی سواری مع کھانے پینے کے سامان کے، صحرا، بیابان میں گم ہوجائے اور وہ ناامید ہوکر کسی درخت کے نیچے لیٹ جائے کہ اچانک اسے اپنی سواری مل جائے اور فرط مسرت میں اس کے منہ سے نکل جائے، اے اللہ! تو میرا بندہ اور میں تیرا رب یعنی شدت فرح میں وہ غلطی کرجائے۔ (صحيح مسلم كتاب التوبة ، باب في الحض على التوبة والفرح بها)۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 26 کی تفسیر

    [26] اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام بندوں کو اپنی طرف انابت اور تقصیر پر توبہ کرنے کی دعوت دی ہے پس بندے اس دعوت کو قبول کرنے کے بارے میں دو اقسام میں منقسم ہیں: ۱۔ پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے اس دعوت کو قبول کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا وصف بیان فرمایا ہے: ﴿وَیَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ یعنی ان کا رب انھیں جس چیز کی طرف بلاتا ہے وہ اس کی پکار کا جواب دیتے ہیں، اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں کیونکہ ان کے اعمال اور عمل صالح انھیں ایسا کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کی پکار پر لبیک کہتے ہیں تو وہ ان کی قدر کرتا ہے وہ بہت بخشنے والا اور نہایت قدردان ہے۔ ﴿وَیَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ٘﴾ ’’اور ان کو اپنے فضل سے بڑھاتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے عمل کے لیے ان کی توفیق و نشاط میں اضافہ کرتا ہے، ان کے اعمال جس ثواب اور فوزعظیم کے مستحق ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں اس سے کئی گنا زیادہ اجر عطا کرتا ہے۔ ۲۔ رہے وہ جو اللہ کی دعوت کو قبول نہیں کرتے اور وہ معاندین حق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کا انکار کرنے والے ہیں۔ ﴿لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ ﴾ ان کے لیے دنیا و آخرت میں سخت عذاب ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 26 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتزخرفالزخرف

غلطی کی اطلاع دیں

مزید