الشورى

شورى

53 آیاتمکیپارہ 25

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 27

    ۞ وَلَوْ بَسَطَ ٱللَّهُ ٱلرِّزْقَ لِعِبَادِهِۦ لَبَغَوْا۟ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَـٰكِن يُنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا يَشَآءُ ۚ إِنَّهُۥ بِعِبَادِهِۦ خَبِيرٌۢ بَصِيرٌ

    اگر اللہ تعالیٰ اپنے (سب) بندوں کی روزی فراخ کر دیتا تو وه زمین میں فساد[1] برپا کردیتے لیکن وه اندازے کے ساتھ جو کچھ چاہتا ہے نازل فرماتا ہے۔ وه اپنے بندوں سے پورا خبردار ہے اور خوب دیکھنے واﻻ ہے.

    حواشی

    [1] یعنی اگر اللہ تعالیٰ ہر شخص کو حاجت و ضرورت سے زیادہ یکساں طور پر وسائل رزق عطا فرما دیتا تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ کوئی کسی کی ماتحتی قبول نہ کرتا، ہر شخص شر وفساد اور بغی وعدوان میں ایک سے بڑھ کر ایک ہوتا، جس سے زمین فساد سے بھرجاتی۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 27 کی تفسیر

    [27] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنے لطف و کرم کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنے بندوں پر دنیا کو اتنی زیادہ فراخ نہیں کرتا، جس سے ان کے دین کو نقصان پہنچے، چنانچہ فرمایا: ﴿وَلَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ ﴾ ’’اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لیے رزق میں فراخی کردیتا تو وہ زمین میں فساد کرنے لگتے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے غافل ہو کر شہوات دنیا سے تمتع میں مصروف ہو جاتے اور دنیا انھیں ان کی خواہشات نفس میں مشغول کر دیتی خواہ وہ معصیت اور ظلم ہی کیوں نہ ہوتے۔ ﴿وَلٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ ﴾ ’’لیکن وہ اپنے اندازے سے جو چیز چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔‘‘ یعنی اپنے لطف و کرم اور حکمت کے تقاضے کے مطابق ﴿اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ ﴾ ’’یقیناً وہ اپنے بندوں سے باخبر، خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘ جیسا کہ ایک اثر میں مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح صرف غنا ہی کرتا ہے اگر میں اسے فقروفاقہ میں مبتلا کر دوں تو یہ فقروفاقہ اسے فاسد کر کے رکھ دے گا اور میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح فقر کے سوا کوئی اور چیز نہیں کرتی اگر میں اسے غنا عطا کر دوں تو وہ ان کے ایمان کو خراب کردے اور میرے بندوں میں سے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح، صحت کے سوا کسی چیز سے نہیں ہوتی اگر میں انھیں بیمار کر دوں تو وہ انھیں فاسد کر کے رکھ دے اور میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح صرف مرض سے ہوتی ہے اگر میں انھیں عافیت سے نواز دوں تو یہ عافیت ان کے ایمان کو فاسد کر دے۔ بندوں کے دلوں میں جو کچھ ہے، اس کے بارے میں اپنے علم کے مطابق بندوں کے امور کی تدبیر کرتا ہوں۔ بے شک میں خبر رکھنے والا اور دیکھنے والا ہوں۔‘‘ (العلل المتناہیۃ فی الأحادیث الواہیۃ، الإیمان، باب تدبیر الخلق بما یصلح الإیمان، حدیث: 27 اس حدیث کی سند ضعیف ہے جیسا کہ حافظ ابن حجرa نے کہا ہے لیکن اس کا معنی و مفہوم درست ہے۔ (فتح ا لباري: 415/11)

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 27 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتزخرفالزخرف

غلطی کی اطلاع دیں

مزید