الشورى

شورى

53 آیاتمکیپارہ 25

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 37

    وَٱلَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَـٰٓئِرَ ٱلْإِثْمِ وَٱلْفَوَٰحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا۟ هُمْ يَغْفِرُونَ

    اور کبیره گناہوں سے اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں اور غصے کے وقت (بھی) معاف کردیتے ہیں.[1]

    حواشی

    [1] یعنی لوگوں سے عفو ودرگزر کرنا ان کے مزاج وطبیعت کا حصہ ہے نہ کہ انتقام اور بدلہ لینا۔ جس طرح نبی (صلى الله عليه وسلم) کے بارے میں آتا ہے۔ ”مَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ قَطُّ إِلا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرُمَات اللهِ“ (البخاري ، كتاب الأدب ، باب يسروا ولا تعسروا - مسلم كتاب الفضائل، باب مباعدته صلى الله عليه وسلم للآثام) نبی (صلى الله عليه وسلم) نے اپنی ذات کے لیے کبھی بدلہ نہیں لیا، ہاں اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کا توڑا جانا آپ کے لیے ناقابل برداشت تھا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 37 کی تفسیر

    [37] ﴿وَالَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓىِٕرَ الْاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ ﴾ ’’اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں۔‘‘ کبائر اور فواحش میں، دونوں کے گناہ کبیرہ ہونے کے باوجود، فرق یہ ہے کہ فواحش وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جن کے لیے نفس انسانی میں داعیہ موجود ہوتا ہے، مثلاً: زنا وغیرہ اور کبائر وہ گناہ ہیں جن کے لیے نفس میں داعیہ موجود نہیں ہوتا، یہ مفہوم دونوں کے اکٹھا استعمال کے وقت ہے۔ اور رہا ان کا انفرادی وجود، تو وہ سب کبائر میں داخل ہیں۔ ﴿وَاِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَ﴾ ’’اور جب وہ غصے میں آتے ہیں تو معاف کردیتے ہیں۔‘‘ یعنی انھوں نے مکارم اخلاق اور محاسن عادات سے اپنے آپ کو آراستہ کر رکھا ہے، حلم ان کی فطرت اور حسن خلق ان کی طبیعت بن گیا ہے حتیٰ کہ جب کبھی کوئی شخص کسی قول یا فعل کے ذریعے سے انھیں ناراض کر دیتا ہے تو وہ اپنے غصے کو پی جاتے ہیں اور اس پر عمل نہیں کرتے، بلکہ قصور بخش دیتے ہیں اور وہ اس کے مقابلے میں حسن سلوک اور عفوودرگزر سے کام لیتے ہیں۔ پس اس عفوودگزر پر، خود ان کی ذات میں اور دوسروں میں بہت سے مصالح مترتب اور بہت سے مفاسد دور ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِدْفَ٘عْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَبَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ۰۰ وَمَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَمَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ﴾ (حم السجدۃ:41؍34، 35) ’’برائی کو نیکی کے ذریعے سے دور کیجیے، آپ دیکھیں گے کہ وہ شخص بھی جس کی آپ کے ساتھ دشمنی ہے، جگری دوست بن جائے گا، اس وصف سے صرف وہی لوگ بہرہ مند ہوتے ہیں، جو صبر کرتے ہیں اور یہ وصف صرف انھیں لوگوں کو عطا ہوتا ہے جو بڑے نصیبے والے ہیں۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 37 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتزخرفالزخرف

غلطی کی اطلاع دیں

مزید