الشورى

شورى

53 آیاتمکیپارہ 25

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 4

    لَهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۖ وَهُوَ ٱلْعَلِىُّ ٱلْعَظِيمُ

    آسمانوں کی (تمام) چیزیں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے وه برتر اور عظیم الشان ہے.

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 1 - 5 کی تفسیر

    [5-1] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے یہ قرآن عظیم، نبی کریم e کی طرف وحی کیا ہے جس طرح آپ سے پہلے انبیاء و مرسلین کی طرف وحی کی۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا ذکر ہے کہ اس نے گزشتہ زمانوں میں اور بعد میں آنے والے زمانوں میں کتابیں نازل کیں اور انبیاء و رسل مبعوث کیے۔ نیز یہ کہ محمد مصطفیe کوئی انوکھے رسول نہیں۔ آپ کا طریقہ وہی ہے جو پہلے انبیاء و مرسلین کا طریقہ تھا۔ آپ کے احوال، گزشتہ انبیاء کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں۔ جو دعوت آپ لے کر آئے ہیں، وہ گزشتہ انبیاء کی دعوت سے مشابہت رکھتی ہے کیونکہ ان کی دعوت اور آپ کی دعوت سب حق اور سچ ہے۔ اور یہ کتابیں اسی ہستی کی طرف سے نازل کی گئی ہیں، جو الوہیت، غلبۂ عظیم اور حکمت بالغہ سے موصوف ہے، تمام عالم علوی اور عالم سفلی، اس کی ملکیت اور اس کی تدبیر قدری اور تدبیر شرعی کے تحت ہیں۔ ﴿الْ٘عَلِیُّ ﴾ وہ اپنی ذات، اپنی قدرت اور اپنے قہروغلبہ کے ساتھ بلند ہے ﴿ الْعَظِيْمُ ﴾’’وہ عظمت والا ہے۔‘‘ جس کی عظمتِ شان سے ﴿تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ ﴾ ’’قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں۔‘‘ باوجود اپنی عظمت اور مضبوطی کے ﴿وَالْمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ اور مکرم و مقرب فرشتے اس کی عظمت کے سامنے سرنگوں، اس کے غلبہ کے سامنے عاجز اور اس کی ربوبیت کے سامنے مطیع اور فروتن ہیں۔ ﴿یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ ﴾ ’’وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ اس کی تعظیم اور ہر نقص سے اس کی تنزیہ کرتے ہیں۔ اور ہر صفت کمال سے اسے متصف قرار دیتے ہیں۔ ﴿وَیَسْتَغْفِرُوْنَ۠ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ ﴾ ’’اور جو زمین میں ہیں ان کے لیے وہ مغفرت طلب کرتے ہیں۔‘‘ ان سے جو ایسی باتیں صادر ہوتیں ہیں، جو ان کے رب کی عظمت اور کبریائی کے لائق نہیں، اس پر ان کے لیے بخشش مانگتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ﴾ ’’اللہ ہی بڑا بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔‘‘ اگر اس کی مغفرت اور رحمت نہ ہوتی تو مخلوق پر فورا عذاب بھیج دیتا جو ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا۔ اس امر کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء و مرسلین کو عام طور پر اور نبی مصطفیٰ محمد e پر خاص طور پر وحی بھیجی، ان اوصاف سے اپنے آپ کو موصوف کرنے میں، اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس قرآن کریم میں ایسے دلائل و براہین ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال، اس کے ان اسمائے عظیم سے اپنے آپ کو موصوف کرنے پر دلالت کرتے ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ قلوب اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی تعظیم اور اس کے جلال و اکرام سے لبریز ہوں، اپنی تمام ظاہری اور باطنی عبودیت کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے ہم سر بنانا، جن کے ہاتھ میں کوئی نفع و نقصان نہیں، سب سے بڑا ظلم اور قبیح ترین قول ہے۔ یہ خود ساختہ ہم سر و معبود تو محض مخلوق ہیں اور اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 4 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتزخرفالزخرف

غلطی کی اطلاع دیں

مزید