الشورى

شورى

53 آیاتمکیپارہ 25

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 50

    أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَـٰثًا ۖ وَيَجْعَلُ مَن يَشَآءُ عَقِيمًا ۚ إِنَّهُۥ عَلِيمٌ قَدِيرٌ

    یا انہیں جمع کردیتا ہے[1] بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی اور جسے چاہے بانجھ کر دیتا ہے، وه بڑے علم واﻻ اور کامل قدرت واﻻ ہے.

    حواشی

    [1] یعنی جس کو چاہتا ہے، مذکر اور مونث دونوں دیتا ہے۔ اس مقام پر اللہ نے لوگوں کی چار قسمیں بیان فرمائی ہیں۔ ایک وہ جن کو صرف بیٹے دیئے۔ دوسرے، وہ جن کو صرف بیٹیاں، تیسرے وہ جن کو بیٹے، بیٹیاں دونوں اور چوتھے، وہ جن کو بیٹا نہ بیٹی۔ لوگوں کے درمیان یہ فرق و تفاوت اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے، اس تفاوت الٰہی کو دنیا کی کوئی طاقت بدلنے پر قادر نہیں ہے۔ یہ تقسیم اولاد کے اعتبار سے ہے۔ باپوں کے اعتبار سے بھی انسانوں کی چار قسمیں ہیں۔ 1۔ آدم (عليه السلام) کو صرف مٹی سے پیدا کیا، ان کا باپ ہے نہ ماں۔ 2۔ حضرت حوا کو آدم (عليه السلام) سے یعنی مرد سے پیدا کیا، ان کی ماں نہیں ہے۔ 3۔ حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کو صرف عورت کے بطن سے پیدا کیا، ان کا باپ نہیں ہے۔ 4۔ اور باقی تمام انسانوں کو مرد اور عورت کے ملاپ سے۔ ان کے باپ بھی ہیں اور مائیں بھی۔ فَسُبْحَانَ اللهِ الْعَلِيمِ الْقَدِيرِ(ابن کثیر)۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 49 - 50 کی تفسیر

    [49، 50] اس آیت کریمہ میں، اللہ تعالی کے لامحدود اقتدار، اپنی مخلوق اور اپنی ملکیت میں اپنی مشیت کے مطابق تصرف کے نفاذ اور تمام امور کی تدبیر کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عمومی تدبیر اسباب سے پیدا شدہ ان اشیاء کو بھی شامل ہے جنھیں بندے اختیار کرتے ہیں۔ پس نکاح تو اولاد کے لیے ایک سبب ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ انھیں جو چاہتا ہے اولاد عطا کرتا ہے، مخلوق میں کسی کو بیٹیاں عطا کرتا ہے، کسی کو بیٹے عطا کرتا ہے، کسی کو بیٹے بیٹیاں دونوں عطا کرتا ہے، کسی کو بانجھ رکھتا ہے اور ان کو اولاد پیدا نہیں ہوتی۔ ﴿اِنَّهٗ عَلِیْمٌ ﴾ بے شک وہ ہر چیز کا علم اور ﴿قَدِیْرٌ ﴾ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، وہ اپنے علم اور مہارت کے ذریعے سے تمام اشیاء میں اور اپنی قدرت کے ذریعے سے تمام مخلوقات میں تصرف کرتا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 50 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتزخرفالزخرف

غلطی کی اطلاع دیں

مزید