الزخرف

زخرف

89 آیاتمکیپارہ 25

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 28

    وَجَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِيَةً فِى عَقِبِهِۦ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ

    اور (ابراہیم علیہ السلام) اسی کو اپنی اوﻻد میں بھی باقی رہنے والی بات[1] قائم کر گئے تاکہ لوگ (شرک سے) باز آتے رہیں.[2]

    حواشی

    [1] یعنی اس کلمۂ لا إِلَهَ إِلا الله ُ کی وصیت اپنی اولاد کو کر گئے۔ جیسے فرمایا وَوَصَّى بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ (البقرة: 132) بعض نے جَعَلَهَا میں فاعل اللہ کو قرار دیا ہے۔ یعنی اللہ نے اس کلمے کو ابراہیم (عليه السلام) کے بعد ان کی اولاد میں باقی رکھا اور وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے رہے۔ [2] یعنی اولاد ابراہیم میں یہ موحدین اس لیے پیدا کیے تاکہ ان کے توحید کے وعظ سے لوگ شرک سے باز آتے رہیں۔ لَعَلَّهُمْ میں ضمیر کا مرجع اہل مکہ ہیں یعنی شاید اہل مکہ اس دین کی طرف لوٹ آئیں جو حضرت ابراہیم (عليه السلام) کا دین تھا جو خالص توحید پر مبنی تھا نہ کہ شرک پر۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 28 کی تفسیر

    [28] ﴿وَجَعَلَهَا ﴾ ’’اور اس کو کیا۔‘‘ یعنی اس خصلت حمیدہ کو جو تمام خصائل کی اساس ہے اور وہ ہے، صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرنا اور غیر اللہ کی عبادت سے براء ت اور بیزاری کا اظہار کرنا، ﴿كَلِمَةًۢ بَ٘اقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ﴾ ’’باقی رہنی والی بات اس کے پیچھے آنے والوں میں۔‘‘ یعنی آپ کی ذریت میں ﴿لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ ﴾ شاید وہ اس بنا پر اس کلمۂ اخلاص کی طرف رجوع کریں کیونکہ اس کا آپ کی طرف منسوب ہونا شہرت رکھتا ہے، نیز اس بنا پر کہ آپ نے اپنی اولاد کو اس کلمۂ اخلاص کی وصیت کی اور آپ کی اولاد میں سے بعض جیسے: اسحاقu اور یعقوبu نے دوسرے نسبی بیٹوں کو اسی کلمۂ اخلاص کی وصیت کی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰؔهٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ١ؕ وَلَقَدِ اصْطَفَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَاِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَ٘مِنَ الصّٰؔلِحِیْنَ۰۰اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْ١ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۰۰ وَوَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰؔهٖمُ بَنِیْهِ وَیَعْقُوْبُ١ؕ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُ٘نَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَؕ۰۰ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَؔ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْ٘مَوْتُ١ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِیْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْ١ؕ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَاِلٰهَ اٰبـَآىِٕكَ اِبْرٰهٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰؔقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ وَّنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَؔ۰۰ ﴾ (البقرہ:2؍133-130) ’’ اور کون بے رغبتی کرسکتا ہے ملت ابراہیم سے سوائے اس کے جس نے اپنے نفس کو احمق بنالیا اور بے شک ہم نے ابراہیم کو دنیا میں چن لیا اور یقینا وہ آخرت میں ضرور نیکو کاروں میں سے ہو گا اور جب ابراہیم سے اس کے رب نے کہا: فرمانبردار ہو جا! تو اس نے کہا :میں رب العالمین کا فرمانبردار ہو گیا ابراہیم نے اور یعقوب نے بھی اپنے بیٹوں کو اسی (کلمۂ حق) کی وصیت کی: اے میرے بیٹو !بے شک اللہ نے تمھارے لیے یہ دین چن لیا ہے، پس تمھیں ہرگز موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔ کیا جب یعقوب کو موت آئی اس وقت تم موجود تھے؟ جب اس نے اپنے بیٹوں سے کہا :میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟ انھوں نے کہا: ہم تیرے معبود اور تیرے باپ دادا ابراہیم، اسماعیل اور اسحق کے معبود کی عبادت کریں گے جو ایک معبود ہے اور ہم اُسی کے فرمانبردار ہیں۔ ‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 28 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتدخّانالدّخان

غلطی کی اطلاع دیں

مزید