الزخرف

زخرف

89 آیاتمکیپارہ 25

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 29

    بَلْ مَتَّعْتُ هَـٰٓؤُلَآءِ وَءَابَآءَهُمْ حَتَّىٰ جَآءَهُمُ ٱلْحَقُّ وَرَسُولٌ مُّبِينٌ

    بلکہ میں نے ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادوں کو سامان (اور اسباب)[1] دیا، یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف سنانے واﻻ رسول آگیا.[2]

    حواشی

    [1] یہاں سے پھر ان نعمتوں کا ذکر ہو رہا ہے جو اللہ نے انہیں عطا کی تھیں اور نعمتوں کے بعد عذاب میں جلدی نہیں کی بلکہ انہیں پوری مہلت دی، جس سے وہ دھوکے میں مبتلا ہوگئے اور خواہشات کے بندے بن گئے۔ [2] حق سے قرآن اور رسول سے حضرت محمد رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) مراد ہیں۔ مُبِينٌ رسول کی صفت ہے، کھول کر بیان کرنے والا یا جن کی رسالت واضح اور ظاہر ہے، اس میں کوئی اشتباہ اور خفا نہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 29 کی تفسیر

    [29] یہ کلمۂ اخلاص ابراہیمuکی اولاد میں ہمیشہ موجود رہا ہے، یہاں تک کہ خوشحالی اور سرکشی ان پر غالب آ گئی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَاٰبَآءَهُمْ ﴾ میں نے ان کو اور ان کے آباء واجداد کو مختلف انواع کی شہوات سے متمتع ہونے دیا یہاں تک کہ یہی شہوات ان کا مطمح نظر اور ان کا مقصد بن گئیں، ان کے دلوں میں ان شہوات کی محبت پھلتی پھولتی رہی، حتی کہ ان کی صفات اور بنیادی عقائد بن گئیں۔ ﴿حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ ﴾ ’’حتیٰ کہ ان کے پاس حق پہنچ گیا۔‘‘ جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ﴿وَرَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ ﴾ ’’اور صاف صاف سنانے والا رسول۔‘‘ یعنی آپ کی رسالت واضح تھی آپ کے اخلاق و معجزات سے آپ کی رسالت پر واضح اور نمایاں دلائل قائم ہوئے جو آپ لے کر مبعوث ہوئے ا ور انبیاء و مرسلین نے آپ کی تصدیق کی اور خود آپ کی دعوت سے بھی آپ کی رسالت پر دلائل قائم ہوتے ہیں۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 29 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتدخّانالدّخان

غلطی کی اطلاع دیں

مزید