الزخرف

زخرف

89 آیاتمکیپارہ 25

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 46

    وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِـَٔايَـٰتِنَآ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِۦ فَقَالَ إِنِّى رَسُولُ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ

    اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے امراء کے پاس بھیجا تو (موسیٰ علیہ السلام نے جاکر) کہا کہ میں تمام جہانوں کے رب کا رسول ہوں.[1]

    حواشی

    [1] قریش مکہ نے کہا تھا کہ اگر اللہ کسی کو نبی بناکر بھیجتا ہی تو مکے اور طائف کے کسی ایسے شخص کو بھیجتا جو صاحب مال وجاہ ہوتا۔ جیسے فرعون نے بھی حضرت موسیٰ (عليه السلام) کے مقابلے میں کہا تھا کہ میں موسیٰ سے بہتر ہوں (اور یہ مجھ سے کمتر ہے، یہ تو صاف بول بھی نہیں سکتا) جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ غالباً اسی مشابہت احوال کی وجہ سے یہاں حضرت موسیٰ (عليه السلام) وفرعون کا قصہ دہرایا جارہا ہے۔ علاوہ ازیں اس میں حضرت نبی کریم (عليه السلام) کے لیے بھی تسلی کا پہلو ہے کہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو بھی بہت سی آزمائشوں سے گزرنا پڑا، انہوں نے صبر اور عزم سے کام لیا، اسی طرح آپ بھی کفار مکہ کی ایذاؤں اور ناروا رویوں سے دل برداشتہ نہ ہوں، صبر اور حوصلے سے کام لیں۔ حضرت موسیٰ (عليه السلام) ہی کی طرح بالآخر فتح وکامرانی آپ ہی کی ہے اور یہ اہل مکہ فرعون ہی کی طرح ناکام ونامراد ہوں گے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 46 کی تفسیر

    [46] جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَسْـَٔلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً یُّعْبَدُوْنَ ﴾ (الزخرف 45/43)تو حضرت موسیٰp اور ان کی دعوت کا ذکر فرمایا، جو انبیاء و مرسلین کی دعوت میں سب سے زیادہ شہرت رکھتی ہے، نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کا سب سے زیادہ ذکر کیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ کا حال بیان فرمایا: ﴿وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰؔى بِاٰیٰتِنَاۤ﴾ ’’ہم نے موسیٰ(u) کو نشانیاں دے کر بھیجا۔‘‘ جو قطعی طور پر دلالت کرتی ہیں کہ جو چیز حضرت موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ صحیح ہے، مثلاً: عصا، سانپ، ٹدی دل بھیجنا ، جوئیں پڑنا اور دیگر تمام آیات و معجزات وغیرہ۔ ﴿اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ﴾ ’’فرعون کی طرف اور اس کے سرداروں کی طرف۔ پس انہوں نے کہا، میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں۔‘‘ سو حضرت موسیٰu نے ان کو اپنے رب کے اقرار کی دعوت دی اور انھیں غیراللہ کی عبادت سے روکا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 46 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتدخّانالدّخان

غلطی کی اطلاع دیں

مزید