الزخرف

زخرف

89 آیاتمکیپارہ 25

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 71

    يُطَافُ عَلَيْهِم بِصِحَافٍ مِّن ذَهَبٍ وَأَكْوَابٍ ۖ وَفِيهَا مَا تَشْتَهِيهِ ٱلْأَنفُسُ وَتَلَذُّ ٱلْأَعْيُنُ ۖ وَأَنتُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ

    ان کے چاروں طرف سے سونے کی رکابیاں اور سونے کے گلاسوں کا دور چلایا جائے گا[1] ، ان کے جی جس چیز کی خواہش کریں اور جس سے ان کی آنکھیں لذت پائیں، سب وہاں ہوگا اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے.[2]

    حواشی

    [1] صِحَافٌ ، صَحْفَةٌ کی جمع ہے۔ رکابی۔ سب سے بڑے برتن کو جَفْنَةٌ کہا جاتا ہے، اس سے چھوٹا قَصْعَةٌ (جس سے دس آدمی شکم سیر ہوجاتے ہیں) پھر صَحْفَةٌ (قَصْعَةٌ سے نصف) پھر مِكِيلَةٌ ہے۔ مطلب ہے کہ اہل جنت کو جو کھانے ملیں گے، وہ سونے کی رکابیوں میں ہوں گے (فتح القدیر)۔ [2] یعنی جس طرح ایک وارث، میراث کا مالک ہوتا ہے، اسی طرح جنت بھی ایک میراث ہے جس کے وارث وہ ہوں گے جنہوں نے دنیا میں ایمان اور عمل صالح کی زندگی گزاری ہوگی۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 71 کی تفسیر

    [71] ﴿یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّاَكْوَابٍ ﴾ یعنی ان کے ہمیشہ رہنے والے خدمت گار لڑکے، بہترین فاخرہ برتنوں میں، ان کا کھانا لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے، یعنی سونے کے طشتوں میں اور شفاف ترین برتنوں میں ان کو مشروبات پیش کریں گے، یعنی ایسے پیالوں میں جن کے کنڈے نہ ہوں گے، یہ چاندی کے شفاف ترین پیالے ہوں گے، جو شیشے سے بڑھ کر صاف و شفاف ہوں گے۔ ﴿وَفِیْهَا ﴾ یعنی جنت میں ﴿مَا تَشْتَهِیْهِ الْاَنْ٘فُ٘سُ وَتَلَذُّ الْاَعْیُنُ ﴾ ’’اور جو جی چاہے گا اور جو آنکھوں کو اچھا لگے گا۔‘‘ یہ ایک جامع لفظ ہے جو ہر قسم کی نعمت و فرحت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے سرور کو شامل ہے۔ ان کو ہر وہ چیز حاصل ہو گی جس کی نفس خواہش کرتے ہیں ، مثلاً: انواع و اقسام کے کھانے، مشروبات، ملبوسات، بیویاں جن سے آنکھوں کو لذت حاصل ہو گی، حسین مناظر، گھنے درخت، خوبصورت نعمتیں اور سجے سجائے محلات ان کو جنت میں ملیں گے جو بہترین طریقے سے جنت میں رہنے والوں کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿لَهُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ وَّلَهُمْ مَّا یَدَّعُوْنَ﴾ (یٰسین: 36؍57) ’’جنت میں ان کے لیے میوے اور ہر وہ چیز ہو گی جو وہ طلب کریں گے۔‘‘ ﴿وَاَنْتُمْ فِیْهَا خٰؔلِدُوْنَ﴾ اور یہی اہل جنت پر اتمام نعمت ہے اور وہ ہے جنت میں ان کا دوام اور خلود، جو جنت کی نعمتوں کے دوام، ان میں اضافے اور عدم انقطاع کو متضمن ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 71 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتدخّانالدّخان

غلطی کی اطلاع دیں

مزید