الزخرف

زخرف

89 آیاتمکیپارہ 25

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 8

    فَأَهْلَكْنَآ أَشَدَّ مِنْهُم بَطْشًا وَمَضَىٰ مَثَلُ ٱلْأَوَّلِينَ

    پس ہم نے ان سے زیاده زور آوروں[1] کو تباه کر ڈاﻻ اور اگلوں کی مثال گزر چکی ہے.[2]

    حواشی

    [1] یعنی اہل مکہ سے زیادہ زور آور تھے، جیسے دوسرے مقام پر فرمایا كَانُوا أَكْثَرَ مِنْهُمْ وَأَشَدَّ قُوَّةً (المؤمن: 82) ”وہ ان سے تعداد اور قوت میں کہیں زیادہ تھے“۔ [2] یعنی قرآن مجید میں ان قوموں کا تذکرہ یا وصف متعدد مرتبہ گزر چکا ہے۔ اس میں اہل مکہ کے لیے تہدید ہے کہ پچھلی قومیں رسولوں کی تکذیب کی وجہ سے ہلاک ہوئیں۔ اگریہ بھی تکذیب رسالت پر مصر رہے تو ان کی مثل یہ بھی ہلاک کردیے جائیں گے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 6 - 8 کی تفسیر

    [8-6] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ مخلوق میں ہماری سنت یہ ہے کہ ہم انھیں مہمل اور بیکار نہیں چھوڑتے ۔ پس کتنے ہی﴿وَؔكَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْ٘نَ﴾ ’’نبی ہم نے پہلے لوگوں میں بھیجے۔‘‘ جو انھیں اللہ واحد کی عبادت کا حکم دیتے تھے جس کا کوئی شریک نہیں۔ تمام قوموں میں تکذیب ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ ﴿وَمَا یَ٘اْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ ﴾ ان کے پاس جو بھی نبی آیا وہ اس کی دعوت کا انکار اور حق کے مقابلے میں تکبر کا اظہار کرتے ہوئے اس کا تمسخر اڑاتے تھے۔ ﴿فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ ﴾ ’’پس ہم نے انھیں ہلاک کیا جو سخت تھے۔‘‘ ان لوگوں سے ﴿بَطْشًا ﴾ ’’قوت میں‘‘ یعنی زمین کے اندر قوت، افعال اور آثار کے لحاظ سے ﴿وَّمَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْ٘نَ ﴾ یعنی ان لوگوں کی امثال و اخبار گزر چکی ہیں اور ان میں سے بہت سی مثالیں ہم تمھارے سامنے بیان کر چکے ہیں جن میں سامان عبرت اور تکذیب پر زجروتوبیخ ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 8 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتدخّانالدّخان

غلطی کی اطلاع دیں

مزید