الزخرف

زخرف

89 آیاتمکیپارہ 25

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 89

    فَٱصْفَحْ عَنْهُمْ وَقُلْ سَلَـٰمٌ ۚ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ

    پس آپ ان سے منھ پھیر لیں اور کہہ دیں۔ (اچھا بھائی) سلام[1] ! انہیں عنقریب (خود ہی) معلوم ہوجائے گا.

    حواشی

    [1] یہ سلام متارکہ ہے، جیسے۔ سَلامٌ عَلَيْكُمْ لا نَبْتَغِي الْجَاهِلِينَ (القصص: 55) قَالُوا سَلامًا (الفرقان: 63) میں ہے۔ یعنی دین کے معاملے میں میری اور تمہاری راہ الگ الگ ہے، تم اگر باز نہیں آتے تو اپنا عمل کیے جاؤ، میں اپنا کام کیے جارہا ہوں، عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون؟

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 89 کی تفسیر

    [89] اس لیے فرمایا: ﴿فَاصْفَ٘حْ عَنْهُمْ وَقُ٘لْ سَلٰ٘مٌ ﴾ ان کی طرف سے آپ کو جو قولی اور فعلی اذیت پہنچتی ہے اس پر ان سے درگزر کیجیے اور ان کو معاف کر دیجیے۔ آپ کی طرف سے ان کے لیے سلام ہی ہونا چاہیے، جس کے ذریعے سے عقل مند اور اہل بصیرت جاہلوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے بارے میں فرمایا: ﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ ﴾ (الفرقان:25؍63) ’’جب ان سے جہلاء مخاطب ہوتے ہیں‘‘ یعنی ایسا خطاب جو ان کی جہالت کے تقاضے پر مبنی ہوتا ہے۔ ﴿قَالُوْا سَلٰمًا ﴾ (الفرقان: 25؍63) ’’تو ان کو کہہ دیتے ہیں: تمھیں سلام ہو۔‘‘ پس رسول مصطفیe نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور آپ کی قوم نے آپ کو جو اذیتیں دیں ان کا عفوودرگزر کے ساتھ سامنا کیا اور آپ ان کے ساتھ صرف حسن سلوک اور حسن کلام سے پیش آئے۔ پس اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس مقدس ہستی پر جسے اللہ تعالیٰ نے خلق عظیم سے مختص فرمایا اور اس کے ذریعے سے زمین و آسمان کے رہنے والوں کو فضیلت بخشی اور آپ اس خلق عظیم کے ذریعے سے ستاروں سے زیادہ بلندیوں پر پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ﴾ تو عنقریب انھیں اپنے گناہوں اور جرائم کا انجام معلوم ہو جائے گا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 89 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتدخّانالدّخان

غلطی کی اطلاع دیں

مزید