الدّخان

دخّان

59 آیاتمکیپارہ 25

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 33

    وَءَاتَيْنَـٰهُم مِّنَ ٱلْـَٔايَـٰتِ مَا فِيهِ بَلَـٰٓؤٌا۟ مُّبِينٌ

    اور ہم نے انہیں ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح آزمائش تھی.[1]

    حواشی

    [1] آیات سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو دیے گئے تھے، ان میں آزمائش کا پہلو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں؟ یا پھر آیات سے مراد وہ احسانات ہیں جو اللہ نے ان پر فرمائے۔ مثلاً فرعونیوں کو غرق کر کے ان کو نجات دینا، ان کے لیے دریا کو پھاڑ کر راستہ بنانا، بادلوں کا سایہ اور من وسلویٰ کا نزول وغیرہ۔ اس میں آزمائش یہ ہے کہ ان احسانات کے بدلے میں یہ قوم اللہ کی فرماں برداری کا راستہ اختیار کرتی ہے یا اس کی ناشکری کرتے ہوئے اس کی بغاوت اور سرکشی کا راستہ اپناتی ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 33 کی تفسیر

    [33] ﴿وَاٰتَیْنٰهُمْ ﴾ اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کیے۔ ﴿مِّنَ الْاٰیٰتِ ﴾ بڑے واضح معجزات اور ظاہری نشانیاں﴿مَا فِیْهِ بَلٰٓـؤٌا مُّبِیْنٌ ﴾ ’’جن میں صاف اور صریح آزمائش تھی۔‘‘ یہ ہماری طرف سے ان پر بہت بڑا احسان اور ان کے نبی موسیٰu جو کچھ ان کے پاس لے کر آئے ہیں، اس پر ایک دلیل ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 33 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتجاثیہالجاثية

غلطی کی اطلاع دیں

مزید